menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Hazaron Kharishen Aisi Ke Har Kharish

30 13
28.10.2026

ہزاروں خارشیں ایسی کہ ہر خارش۔۔

ہم میں سے کس نے یہ کہا یا سنا نہ ہوگا!

تمہیں کیوں خارش ہو رہی ہے؟ تمہیں کس بات کی کھجلی ہے؟

تو صاحبو یہ جان لیں کہ خارش یا کھجلی ہمارے ملک کی قومی بیماری ہے جو لاعلاج ہے۔ ملک بھر میں اس کا راج ہے۔ عالم سے عالم اور جاہل سے جاہل اس کا خوگر ہے۔ بڑے بڑے اطباء اور حکماء نے ہاتھ اٹھا لیے ہیں کیونکہ وہ خود کھجانے میں مبتلا ہیں۔ خارش چھوت کی بیماری نہیں لیکن اس ملک میں سب کے لیے چھوٹ ہے۔

خارش آپ کی جلد پر ہو تو بدنی اور اگر یہی خارش کسی دوسرے کے لیے دماغ میں ہو تو سازش بن جاتی ہے اسی لیے جسے سازشی تھیوری کہا جاتا ہے۔ وہ دراصل خارشی تھیوری کہلاتی ہے۔ وطن عزیز اس تھیوری پر چل رہا ہے۔ عبدل بھائی کا کہنا ہے کہ اس ملک کا واحد مسئلہ خارشی تھیوریاں ہیں۔ جب تک یہ خارشی تھیوریاں موجود ہیں۔ آپ بطور معاشرہ خجلات، جھنجھلاہٹ اور جھنجناہٹ کا شکار رہیں گے۔

گھروں کے معاملات ہوں یا تھڑوں کی بیٹھک، سیاسی ایوانوں کی اٹھا پٹخ ہو یا ٹی وی ٹاک شوز کے موضوعات یہی تھیوریاں ہماری چولیں ہلا رہی ہے۔ میرے خیال سے خار سے خارش نکلی ہے۔ اس لیے جس کو آپ سے جتنی زیادہ خار ہوگی وہ اتنی ہی بڑی خارشی تھیوریز کے کر آئے گا۔ حسرت موہانی کے شعر میں ایک لفظ کی تبدیلی سے مضمون کا مزا رج کے آئے گا۔

مقرر کچھ نہ کچھ اس میں رقیبوں کی بھی "خارش" ہے۔۔

بدنی سازش میں آپ کھجاتے اور سکون........

© Daily Urdu (Blogs)