menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Chutti Ke Bahane Hazar

30 0
02.05.2026

بڑی بوڑھیوں سے سنتے چلے آرہے ہیں کہ موت کو تو آنے کا بہانہ چاھیئے۔ چھٹی کے بہانے بازوں سے ملا تو اس بات کا سولہ آنے یقین ہوگیا۔ ایسے ایسے بہانے کے موت خود نہ آنے کے بہانے ڈھونڈتے اور کہہ اٹھے: ایسی موت سے تو موت آجانا ہی بہتر ہے۔ مگر اللہ بچائے چھٹی کے لئے جتنے منہ اتنے بہانے۔ تاریخ بتاتی ہے کہ سب سے محکم بہانہ کسی قریب ترین عزیز کی اچانک موت یے جو رات کے کسی پہر یا عین آفس کے لئے نکلتے وقت ہوتی ہے۔ اس بہانے میں کتنے زندوں اور مردوں کو ان کے بغیر بتائے کئی بار مار دیا جاتا ہے۔ غالب الہامی شاعر تھا۔ انہی چھٹی کے بہانے بازوں کے لئے کہہ گیا۔

مجھے کیا برا تھا مرنا اگر ایک بار ہوتا

ویسے اس میں برائی بھی کیا ہے۔ اپنے ہی اپنوں کے کام آتے ہیں۔ اب دیکھئے مرے کو مارا تو اس میں کیا گناہ کیا۔ ہاں زندہ کو مارا تو جس کو مارا اس کے حساب میں کسی کے کام آنا تو لکھ ہی دیا گیا۔

اپنے لئے تو سب ہی مرتے ہیں اس جہاں میں ہے فوتگی کا مقصد اوروں کے کام آنا

یہ بہانے باز اس طرح انتقال کی خبر دیتے ہیں جیسے میت کے سرھانے کھڑے ہوں اور میت ان سے کہہ رہی ہو کہ اگر میرے مرنے کی خبر اپنے دفتر والوں کو نہ دی تو یہ مرنا مرنے میں شمار نہ ہوگا۔ آواز میں درد و کرب کے سیاہ بادل امڈ امڈ آتے ہیں۔ کلیجہ منہ کو اور منہ موبائل کو آرہا ہوتا ہے۔ کبھی کبھی تو آنسوؤں کی رم جھم آواز میں بھی سنائی دیتی یے۔ مزے کی بات یہ ہے کہ یہ سب گھر کے بستر پر ہی ہو رہا ہوتا ہے جہاں صاحب غم سے نڈھال، گرم گرم چائے ہاتھ میں لیے قبر سے ذرا کم ہی نیم دراز ہوتے ہیں۔ بس نہیں چلتا کہ اپنے بستر ہر لیٹے لیٹے مزے والے کے ساتھ سپرد خاک ہو جائیں۔ لیکن بات یہی ہے مرنے والوں کے ساتھ کوئی مرتا........

© Daily Urdu (Blogs)