menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Bachpan Mein Asar Nahi Hota Tha, Ab Asar Nahi Jaata

32 0
01.10.2026

بچپن میں اثر نہیں ہوتا تھا، اب اثر نہیں جاتا

بچپن بھی کیا خوبصورت زمانہ تھا۔ کسی نے ڈانٹ دیا تو منہ بن گیا۔ کسی نے کوئی بات کہہ دی تو کچھ دیر کے لیے ناراضی ہوگئی۔ بہن بھائی سے لڑائی ہوئی تو شاید ایک دوسرے سے بات کرنا بھی چھوڑ دی، لیکن یہ ناراضی زیادہ دیر کہاں رہتی تھی؟

کچھ دیر بعد پھر وہی ہنسی، وہی کھیل، وہی باتیں، وہی ساتھ۔ کسی دوست سے روٹھے تو تھوڑی دیر بعد خود ہی صلح ہو جاتی تھی۔ کسی رشتہ دار کی بات بری لگی تو دل کچھ دیر اداس ہوا، پھر سب بھول گئے۔

والدین بھی کبھی مسکرا کر کہتے تھے: "اس کو جتنا مرضی سمجھا لو، اس پر کسی بات کا اثر ہی نہیں ہوتا"۔

تب واقعی ایسا ہی لگتا تھا۔ بچپن میں باتوں کا اثر نہیں ہوتا تھا، لیکن آج عجیب بات ہے کہ باتوں کا اثر جاتا نہیں۔ آج کسی کا ایک جملہ پورا دن خراب کر دیتا ہے۔ کسی کے بدلتے لہجے پر ذہن سوال کرنے لگتا ہے۔ کسی کی خاموشی کئی مطلب پیدا کر دیتی ہے۔

کسی کی بےرخی دل میں یہ سوال چھوڑ جاتی ہے: "آخر مجھ سے کیا غلطی ہوئی؟"

اور کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ سامنے والا وہ بات کہہ کر آگے بڑھ چکا ہوتا ہے، مگر وہ جملہ ہمارے ذہن میں وہیں رک جاتا ہے۔

رات کو خاموشی میں وہی بات یاد آتی ہے۔ پھر سوچا جاتا ہے کہ جواب کیا دینا چاہیے تھا۔ پھر خیال آتا ہے کہ شاید سامنے والے کا........

© Daily Urdu (Blogs)