Jameel Sahab Ki Bikhri Dastan
جمیل صاحب کی بکھری داستان
یہ داستان محض ایک شخص کی نہیں، یہ ہمارے اجتماعی رویّوں، اقدار اور اخلاقی ترجیحات کا نوحہ ہے۔ بظاہر یہ ایک دلچسپ، چٹپٹی اور کسی حد تک مزاحیہ یادداشت معلوم ہوتی ہے، مگر ذرا گہرائی میں اتریے تو ہنسی منجمد ہو جاتی ہے اور شرمندگی ایک بوجھ بن کر سینے پر آ بیٹھتی ہے۔ ایک طالب علم، جو پاکستان کی ایک معتبر یونیورسٹی سے عربی میں ایم اے کر چکا ہے، پھر سیاسیات میں مزید تعلیم کے لیے ڈھاکہ یونیورسٹی پہنچتا ہے اور وہاں اس کا کردار آہستہ آہستہ کھلتا ہے۔ ابتدا پی آئی اے کے سفر میں گدی اور کمبل "ہاتھ کی صفائی" سے ہوتی ہے، جسے دوست احباب شرارت، چالاکی یا حاضر دماغی کے پیرائے میں بیان کرتے ہیں، پھر معاملہ یونیورسٹی کے ایک بڑے بلب کو جھٹکے سے اتار کر کمرے کو "بقعۂ نور" بنانے تک پہنچتا ہے اور آخرکار کتابوں کے کارٹنوں پر ختم ہوتا ہے جو ایک امریکی این جی او سے جعل سازی کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ المیہ یہ نہیں کہ یہ سب کچھ ہوا، اصل المیہ یہ ہے کہ اسے سنانے والا، لکھنے والا اور پڑھنے والا، سب کہیں نہ کہیں اسے قابلِ ذکر "کارنامہ" سمجھ بیٹھتے ہیں۔
جمیل صاحب کا کردار کسی ایک فرد تک محدود نہیں رہتا، وہ ایک علامت بن جاتا ہے۔ ایک ایسا کردار جو دلیل سے زیادہ چالاکی پر یقین رکھتا ہے، محنت کے بجائے شارٹ کٹ کو ترجیح دیتا ہے اور اصولوں کو راستے کی رکاوٹ سمجھتا ہے۔ بنگالی طلبہ سے بحث ہو یا انگریزی پر کمزور........
