menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Federalist Paper Number 78, Azad Adliya Ka Falsafa

23 0
09.08.2026

فیڈرلسٹ پیپر نمبر 78، آزاد عدلیہ کا فلسفہ

انسانی تہذیب کی طویل داستان میں شاید انصاف سے زیادہ کوئی اور تصور ایسا نہیں جس کے لیے اتنی جدوجہد کی گئی ہو۔ طاقتور اور کمزور، امیر اور غریب، حاکم اور محکوم، سب کسی نہ کسی مرحلے پر انصاف کے دروازے پر دستک دیتے ہیں۔ لیکن انصاف صرف ایک اخلاقی خواہش نہیں، یہ ایک ریاستی ضرورت بھی ہے۔ کوئی معاشرہ محض فوج، خزانے یا انتظامی مشینری کے بل پر دیرپا استحکام حاصل نہیں کر سکتا۔ ریاست کی اصل قوت اس اعتماد میں پوشیدہ ہوتی ہے جو اس کے شہری اس کے نظام پر کرتے ہیں۔ جب لوگوں کو یقین ہو کہ ان کے حقوق محفوظ ہیں، ان کی فریاد سنی جائے گی اور قانون سب کے لیے یکساں ہے تو وہ ریاست کو اپنا محافظ سمجھتے ہیں۔ لیکن جب انصاف کمزور ہو جائے تو قانون طاقتور کے ہاتھ کا ہتھیار بن جاتا ہے اور ریاست خوف کی علامت بننے لگتی ہے۔

یہی وہ سوال تھا جس پر الیگزینڈر ہیملٹن نے اپنے مشہور مضمون "فیڈرلسٹ نمبر 78" میں غور کیا۔ اس نے عدلیہ کے کردار، اس کی آزادی اور اس کی ضرورت کو ایسے انداز میں بیان کیا کہ یہ مضمون بعد ازاں آئینی فکرکے بنیادی متون میں شمار ہونے لگا۔ دو صدیوں سے زیادہ عرصہ گزر جانے کے باوجود دنیا بھر میں عدلیہ کے مقام پر ہونے والی بحثوں میں اس مضمون کی بازگشت سنائی دیتی ہے۔

ہیملٹن کا بنیادی استدلال نہایت سادہ مگر گہرا تھا۔ اس کے نزدیک ریاست کے مختلف اداروں میں عدلیہ سب سے کمزور ادارہ ہے کیونکہ اس کے پاس نہ تلوار ہوتی ہے اور نہ خزانہ۔ وہ فوج کی مالک نہیں ہوتی، نہ محصولات جمع کرتی ہے اور نہ حکومت چلاتی ہے۔ اس کے پاس صرف فیصلہ کرنے کا اختیار ہوتا ہے۔........

© Daily Urdu (Blogs)