menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naye Novel Ka Baab Number 10

43 0
02.09.2026

نئے ناؤل کا باب نمبر 10

رات کا پہلا پہر شروع ہوچکا تھا۔ ابو طالبؑ اپنے تین منزلہ مکان کے سرداب میں تکیہ سے ٹیک لگا کر بیٹھے تھے۔ سرداب میں اُن کی نشست ایک چبوترہ نما بلندی پر تھی جس پر یمنی روئی کے گدیلوں پر سُرخ اور نیلے رنگ کی دھاری دار شامی دری بچھی تھی۔ یہ لمبی چوڑی دری چبوترے کے نیچے تک لٹکی ہوئی تھی۔ پائوں آگے کی طرف پسارے ہوئے تھے اور پائوں کی طرف موٹے سوت کی یمنی چادر پڑی تھی جو اُنھوں نے گھٹنوں تک اوڑھ رکھی تھی۔ ابو طالبؑ کی ناک تیز اور آنکھیں روشن اور سیاہ تھیں اور موٹی وضع کی تھیں، آنکھ کے ڈیلے قدرے باہر کی جانب اُبھرے ہوئے نہایت بھلے لگتے تھے۔ پیشانی چوڑی اور سفید، بال گھنگھریالے اور لچھے دار تھے۔ جنھیں مشک اور رومی زیتون سے اِس طرح روغنی کیا گیا تھا کہ وہ سُبک خوشبودار اور ہلکے ہو گئے تھے۔ اُن کے سیاہ اور چمک دار بال سیاہ عمامے کے نیچے سے لٹکے ہوئے تھے جو سیاہ داڑھی کے بالوں سے مل کر عجیب ہیبت دکھا رہے تھے۔

ابو طالبؑ کا لباس مٹیالے کھدر کا تھا۔ چہرہ سُرخ و سفید تھا۔ یہ سب چیزیں آپس میں مل جل کر اِس طرح تھیں جیسے اُن کا جسم زمین ہو اور اُس زمین پر اُن کا سر کعبہ ہو۔ ابو طالبؑ کے سامنے اِس وقت لکڑی کے تخت پر اُن کی چچا زاد بیوی فاطمہ بنتِ اسدؑ بیٹھی تھی۔ فاطمہؑ کے ہاتھ میں اِس وقت ابراہیمی صحیفہ تھا۔ جسے وہ برکت کے لیے ہر وقت اپنے پہلو میں رکھتی اور اُس سے فال لیتی۔ ابو طالبؑ بھی اُسی سے فال لیتا تھا اور یہ فال رات کے اِسی پہر لی جاتی تھی جب اُن کے پاس کوئی دوسرا شخص نہیں ہوتا تھا۔ یہ ایک بڑا دالان نما کمرہ تھا جس کی چھت کم و بیش بیس لکڑی کے ستونوں پر کھڑی تھی۔ یہ بھاری اور سیاہی مائل ستون گھر کی ہیبت کا سبب بن رہے تھے۔

ابو طالبؑ جب بھی کسی ایک کام کو انجام دیتے یا کسی مسئلے کا سامنا کرتے تو اپنی بیوی اور چچا زاد فاطمہ بنتِ اسد سے ضرور مشورہ کرتے پھر اُس مسئلے کو سامنے رکھ کر دونوں ابراہیمی صحیفہ سے فال لیتے۔ آج بھی اُنھیں ایک مسئلہ درپیش تھا۔

ابو طالبؑ نے آہستگی سے دونوں پائوں کو واپس اپنی طرف سمیٹا اور ٹیک کو سیدھا کرکے بیٹھ گئے، پھر فاطمہ بنتِ اسد سے کہا، اے میری چچا کی بیٹی خدا تیری عقل اور جسم کو سلامتی دے اور اُس عزت کو ہمارے نام کے ساتھ امر کرے جو اللہ نے اپنے گھر کے وارثوں کے لیے قیامت تک قائم کر دی ہے۔ دو دن پہلے حکیم ابنِ حزام نے ہماری طرف رجوع کیا اور ایک ایسی دعوت دی جسے قبول کرنے یا نہ کرنے کا........

© Daily Urdu (Blogs)