Aainda Novel Se Aik Iqtibas
آئندہ ناول سے ایک اقتباس
591 عیسوی 10 ربیع الاول سوموار کی صبح تھی۔ جب ابو طالبؑ اپنے بھتیجے محمدؑ کی برات لے کر خدیجہ کے گھر پہنچے۔ برات اگرچہ شاہی خاندان کے فرد کی حیثیت سے تھی مگر حیرت کی بات یہ ہوئی کہ ابو طالبؑ نے سوائے اپنے قبیلے کے دوسرے قبیلے کےکسی فرد کو برات میں شامل نہیں کیا۔ محلہ بنی ہاشم سے اگرچہ محلہ بنی اسد تک زیادہ فاصلہ نہیں تھا مگر برات کے لیے بہترین سواریوں کا اہتمام کیا گیا۔ اِن سواریوں میں چالیس عدد سُرخ ناقے اور پچاس عربی گھوڑے تھے۔ بنی ہاشم کی عورتیں اُونٹنیوں کی محملوں میں بیٹھی تھیں جب کہ مرد گھوڑوں پر سوار تھے۔ اُن کے پہلوئوں میں تلواریں اور کمربندوں میں خنجر اڑسے ہوئے تھے۔ محمدؑ بن عبداللہ خود ایک چاک چوبند عربی گھوڑے پر سوار تھے۔ برات کے لیے خاص طور پر کعبہ کے مطاف کا راستہ اختیار کیا گیا۔ کعبہ کے صحن میں پہنچ ک ابو طالبؑ اور محمدؑ اپنی سواریوں سے نیچے اُترے اور حجرِ اسود کو بوسہ دیا، اُس کے بعد دونوں نےکعبہ کا طواف کیا۔ پھر حطیم کے اندر کھڑے ہو کر اسماعیل اور ہاجرہ کو وسیلہ بنا کر دعا کی اور کہا، بارِ الہا اپنے اِن صالحین بندوں کے واسطے میرے بھتیجے پر برکت نازل فرما اور اِسے اپنی مخلوق کے لیے رحمت بنا دے۔
اِن اعمال سے فارغ ہو کر دوبارہ سوار ہوئے اور واپس مروہ کے دامن سے نکل کر محلہ بنی اسد میں داخل ہو گئے۔ لوگ بنی ہاشم کے اِس جوان کی برات کو دیکھنے کے لیے اپنی چھتوں پر چڑھ گئے جسے اُنھوں نے صادق اور امین کا لقب دے رکھا تھا۔ عورتیں چھتوں پر کھڑی تھیں۔ بچے مکہ کے بازاروں میں آگئے اور مرد مکانوں کی بالکونیوں میں کھڑے ہو کر اِس منظر کو دیکھنے لگے۔ برات کی سواریوں کے ارد گرد غلاموں اور ملازموں کی پلٹنیں اپنے نیزوں اور تلواروں کے ساتھ چل رہی تھی۔ ملازموں کے سروں پر خود تھے اور جنگی لباس زیب تن کر رکھے تھے۔
خالدہ بنتِ عبدالمطلب اور عاتکہ، یہ دونوں بہنیں بنی ہاشم کی بڑے درجے کی شاعرات تھیں۔ اپنے ناقوں پر بیٹھی دونوں بلند آواز میں محمدؑ بن عبداللہ کے لیے قصیدے کہتی جاتی تھیں۔ محمدؑ کے قصیدوں کے درمیان وہ بنی ہاشم کی عظمت، حکمت، دانائی، مہمان نوازی اور دیگر قبائل پر اخلاقی برتری کے مضامین بھی بیان کر رہی تھیں۔
ہم بنی ہاشم کی بیٹیاں اور آسمان قامت بلندیوں کی روشنیاں ہیں۔ ہمارا جد ہاشم بادشاہ تھا۔ وہ بادشاہی ہمارے باپ عبدالمطلب کی طرف منتقل ہوئی تو ہم نے اُس کی حفاظت کی۔ ہم نے اپنے اِس شرف کی حفاظت سخاوت اور صلہ رحمی کی تلواروں سے کی۔ ہمارے پاس بردباری کی ڈھالیں اور عقل کے تیر ہیں۔ یہ تیز رفتار بروقت کام آنے والا اسلحہ ابو طالبؑ کے ہاتھ میں رہا اور اب اُسے محمدؑ کو سونپا جائے گا۔
تمھیں کیا معلوم محمدؑ کون ہے؟ آئو اور دیکھو یہ وہ صادق اور امین بہادر ہے جسے خدا نے ہمارے ہی قبیلے کا شرف بنایا۔ لوگ اِس کا چہرہ دیکھ کر خدا کی رحمت اور بارش کا تصور کرتے ہیں۔ اگر دنیا میں نیکیوں کا وجود ہے تو اُس کا مخزن ہمارا بیٹا........
