menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Naama e Amaal

24 0
27.10.2026

بینک کی چند صفحات پر مشتمل ایک اسٹیٹمنٹ بظاہر محض لین دین کی تفصیل ہوتی ہے، مگر غور کیا جائے تو وہ انسان کو ایک ایسے آئینے کے سامنے لا کھڑا کرتی ہے جہاں رقم کے ساتھ ساتھ اس کی عادتیں، ترجیحات اور طرزِ زندگی بھی دکھائی دینے لگتا ہے۔ کس سے رقم آئی، کہاں خرچ ہوئی، کب نکالی گئی، کس ذریعے سے منتقل ہوئی، کتنا ٹیکس کٹا اور کتنا منافع ملا۔۔ سب کچھ محفوظ۔ انسان چاہے کسی ایک لین دین کو بھول جائے، سسٹم اسے نہیں بھولتا۔ یہی خیال اگر دنیاوی حساب سے آگے بڑھ کر آخرت کے تصور پر رکھا جائے تو معاملہ کہیں زیادہ سنجیدہ ہو جاتا ہے، کیونکہ وہاں حساب صرف روپے پیسے کا نہیں، کردار کا ہوگا۔

ہم دنیا میں اپنے مالی معاملات کے ریکارڈ کو بڑی احتیاط سے دیکھتے ہیں۔ سال ختم ہونے سے پہلے حساب کتاب درست کرتے ہیں، آمدنی اور اخراجات کا جائزہ لیتے ہیں، ٹیکس ریٹرن جمع کرتے ہیں، رسیدیں ڈھونڈتے ہیں اور یہ کوشش کرتے ہیں کہ ہماری مالی تصویر کسی غلط فہمی یا تضاد کا شکار نہ ہو۔ لیکن اسی دوران ایک عجیب غفلت ہمارے رویے کا حصہ بن چکی ہے۔ ہم اپنے بینک اکاؤنٹ کے ایک ایک ہندسے سے واقف ہوتے ہیں مگر اپنے کردار کے کھاتے سے بے خبر رہتے ہیں۔ ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہمارے پاس کتنی رقم ہے، لیکن یہ معلوم کرنے کی فرصت نہیں ہوتی کہ ہمارے اندر کتنی دیانت باقی ہے۔ ہمیں یہ فکر رہتی ہے کہ کسی ادارے کے حساب میں ہماری آمدنی کم یا زیادہ درج نہ ہو جائے، مگر یہ فکر کم ہی ستاتی ہے کہ ہمارے اعمال کے حساب میں ہم خود اپنے بارے میں کیا درج کروا رہے ہیں۔

قرآن مجید انسان کو اسی غفلت سے جھنجھوڑتا ہے۔ سورۃ القارعہ میں اعمال کے وزن کا ذکر محض ایک مذہبی تصور کے طور پر نہیں بلکہ انسانی زندگی کی بنیادی حقیقت کے طور پر سامنے آتا ہے۔ وہاں کامیابی کا معیار دولت، شہرت، منصب یا دنیاوی نمود نہیں، بلکہ اعمال کا وزن ہے۔ یہ تصور انسان........

© Daily Urdu (Blogs)