menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Kya Hamari Soch Bimar Hai?

33 0
12.10.2026

کیا ہماری سوچ بیمار ہے؟

ہم میں سے اکثر لوگ اپنے جسم کی تھکن کو تو پہچان لیتے ہیں، مگر اپنے ذہن کی تھکن کو نظرانداز کرتے رہتے ہیں۔ جسم تھک جائے تو ہمیں بھوک، پیاس، نیند اور آرام کا احساس ہونے لگتا ہے، لیکن ذہن مسلسل تھک رہا ہو تو ہم اسے اکثر معمول کا حصہ سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ شاید یہی ہماری زندگی کا ایک عجیب تضاد ہے کہ ہم موبائل فون کی بیٹری کے چند فیصد کم ہونے پر پریشان ہو جاتے ہیں، مگر اپنے اندر امید، حوصلے اور سکون کی بیٹری مسلسل ختم ہوتی رہے تو ہمیں اس کا خیال تک نہیں آتا۔ ہم فون کو چارج کرنے کے لیے فوراً چارجر ڈھونڈ لیتے ہیں، مگر خود کو دوبارہ زندہ دل بنانے کے لیے کیا کرتے ہیں؟

جسم کو توانائی خوراک سے ملتی ہے، لیکن انسان صرف گوشت پوست کا نام نہیں۔ اس کے اندر ایک ذہنی دنیا بھی آباد ہے جہاں خیالات جنم لیتے ہیں، الفاظ اثر چھوڑتے ہیں اور رویے شخصیت کی سمت طے کرتے ہیں۔ اگر کسی شخص کا ذہن مسلسل ناکامی، خوف، محرومی، شکایت اور مایوسی کے پیغامات وصول کرتا رہے تو محض اچھی خوراک اسے مکمل طور پر توانا نہیں رکھ سکتی۔ ممکن ہے جسم مضبوط ہو، چہرہ تروتازہ ہو اور ظاہری زندگی معمول کے مطابق چل رہی ہو، لیکن اندر کہیں انسان اپنے ہی خیالات کے بوجھ تلے دب رہا ہو۔ سوال یہ ہے کہ ہم اپنے جسم کی صحت کے لیے اتنے محتاط اور ذہنی صحت کے لیے اتنے بے پروا کیوں ہیں؟

موبائل فون کی بیٹری ختم ہو جائے تو مسئلہ واضح ہوتا ہے، فون سست پڑتا ہے، بند ہونے لگتا ہے اور ہمیں فوراً احساس ہو جاتا ہے کہ اسے توانائی درکار ہے۔ مگر انسان کی اندرونی توانائی خاموشی سے کم ہوتی ہے۔ وہ کسی دن اچانک ختم نہیں ہوتی بلکہ روزمرہ کے معمولی جملوں، مسلسل شکایتوں، بے مقصد بحثوں، دوسروں سے موازنوں اور اپنے آپ کو کمتر سمجھنے کی عادت سے آہستہ آہستہ........

© Daily Urdu (Blogs)