Ghar Mein Aman Kyun Nahi?
گھر میں امن کیوں نہیں؟
گھر کی سب سے بڑی تباہی ہمیشہ اونچی آواز سے شروع نہیں ہوتی، کبھی کبھی یہ اس خاموشی سے جنم لیتی ہے جس میں دو انسان ایک دوسرے کے سامنے موجود تو ہوتے ہیں، مگر ایک دوسرے کے دل سے اتر چکے ہوتے ہیں۔ بظاہر گھر قائم رہتا ہے، بچے بڑے ہو جاتے ہیں، ذمہ داریاں پوری ہوتی رہتی ہیں، لوگ ایک دوسرے کے ساتھ تصویریں بنواتے ہیں، تقریبات میں شریک ہوتے ہیں، مگر اندر کہیں ایک ایسی جنگ جاری رہتی ہے جس کا کوئی اعلان نہیں ہوتا۔ ازدواجی زندگی دو ایسے انسانوں کا ساتھ ہے جو ایک جیسے مزاج، ایک جیسی سوچ، ایک جیسی تربیت اور ایک جیسے تجربات لے کر نہیں آتے۔ دو مختلف گھروں سے آنے والے افراد جب ایک چھت کے نیچے زندگی شروع کرتے ہیں تو اختلاف کا پیدا ہونا غیر فطری نہیں، بلکہ تقریباً ناگزیر ہے۔ اصل مسئلہ اختلاف نہیں، اختلاف سے نمٹنے کا طریقہ ہے۔ ایک گھر میں معمولی بات گفتگو کے ذریعے ختم ہو سکتی ہے اور دوسرے گھر میں وہی بات انا کی جنگ بن جاتی ہے۔ فرق واقعے میں نہیں، رویے میں ہوتا ہے۔ ہم اکثر مسئلے کو حل کرنے کے بجائے یہ ثابت کرنے میں لگ جاتے ہیں کہ غلطی کس کی تھی اور یہی وہ مقام ہے جہاں رشتہ جیتنے کے بجائے ہارنے لگتا ہے۔
ہماری معاشرتی تربیت نے بھی ازدواجی تعلق کو عجیب مقابلے میں بدل دیا ہے۔ شوہر چاہتا ہے کہ آخری بات اسی کی مانی جائے، بیوی چاہتی ہے کہ اس کی ناراضی کو ہر حال میں تسلیم کیا جائے۔ دونوں بسا اوقات محبت سے زیادہ اپنی برتری کے تحفظ میں مصروف ہو جاتے ہیں۔ پھر ایک جملہ دوسرے جملے کو جنم دیتا ہے، ایک پرانی شکایت دوسری پرانی شکایت کو جگا دیتی ہےاور ایک تازہ تنازعہ پرانی شکایتوں کا پنڈورا باکس کھول دیتا ہے۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ میاں بیوی اکثر اس شخص کو شکست دینے کی کوشش کرتے ہیں جس کے ساتھ انہیں زندگی گزارنی ہوتی ہے۔ یہ کیسی فتح ہے جس کے بعد گھر ہی ہار جائے؟ قرآن مجید انسانی کمزوریوں کو نظر انداز نہیں کرتا۔ سورۂ تغابن میں شریکِ حیات اور اولاد کے حوالے سے........
