menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Apne Girebaan Mein Jhankein

27 0
13.10.2026

اپنے گریبان میں جھانکیں

انسان کی اصل شخصیت اس وقت سامنے آتی ہے جب اس کے سامنے کوئی ایسا شخص موجود نہ ہو جسے وہ جواب دے سکے۔ گفتگو کی ایک محفل میں بیٹھے چند ساتھی اپنے گزرے ہوئے زمانےکے قصے سنا رہے تھے۔ بظاہر سب صحت مند، مطمئن اور خوش باش تھے، مگر گفتگو کا مرکز ان کی اپنی زندگی نہیں بلکہ وہ لوگ تھے جو کبھی ان کے ساتھ کام کرتے رہے تھے۔ کسی کے کام کرنے کا انداز زیرِ بحث تھا، کسی کے مزاج کا مذاق اڑایا جا رہا تھا، کسی کی کمزوری کو قصہ بنا کر سنایا جا رہا تھا اور کسی کی پرانی غلطی کو برسوں بعد بھی محفوظ رکھا گیا تھا۔

یوں محسوس ہوا جیسے وقت گزر گیا مگر لوگوں کی خامیاں یاد رکھنے کی عادت اب بھی جوان ہے۔ میں نے سوچا، عجیب بات ہے کہ دوسروں کے عیبوں کا ریکارڈ ہمارے ذہن میں محفوظ رہتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ ہم دوسروں کی زندگی کے وہ صفحات کیوں سنبھال کر رکھتے ہیں جنہیں خود ان کے علاوہ کسی نے پڑھنے کی ضرورت نہیں؟ کیا انسان کی یادداشت کا مقصد صرف دوسروں کی غلطیاں محفوظ کرنا ہے؟ اور اگر کسی شخص کی اصلاح ہمارے اختیار میں نہیں رہی، وہ ہمارے سامنے موجود بھی نہیں، تو پھر اس کے عیبوں پر گفتگو سے ہمیں کیا حاصل ہوتا ہے؟

اصل مسئلہ غیبت سے بھی کچھ آگے کا ہے۔ ہم اکثر دوسروں کی خامیوں کو بیان کرکے دراصل اپنے آپ کو بہتر ثابت کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب ہم کہتے ہیں کہ فلاں نااہل تھا، فلاں خودغرض تھا، فلاں بدتمیز تھا یا فلاں نے زندگی میں بڑی غلطیاں کیں تو بظاہر ہم کسی دوسرے کا تجزیہ کر رہے ہوتے ہیں، مگر لاشعوری طور پر اپنے کردار کا موازنہ بھی پیش کر رہے ہوتے ہیں۔ انسان کو اپنے عیب دیکھنے کے مقابلے میں دوسرے کا عیب دیکھنا کہیں آسان لگتا ہے۔ آئینہ سامنے ہو تو نگاہ جھک جاتی ہے، لیکن دوسرے کا چہرہ........

© Daily Urdu (Blogs)