Sindh Mein Smart Agriculture Ka Jaiza
سندھ میں اسمارٹ ایگری کلچر کا جائزہ
سندھ اپنی جغرافیائی اہمیت اور قدرتی وسائل یعنی زراعت، لائیوو اسٹاک اور معدنیات کی وجہ سے مالا مال صوبہ ہے۔ ان قدرتی وسائل سے نہ صرف سندھ کے عوام کی غذائی ضروریات پوری ہوتی ہیں بلکہ زائد پیداوار کو برآمد کرکے قیمتی زرمبادلہ بھی کمایا جاتا ہے۔ صوبہ سندھ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ اس کے سب سے بڑے شہر کراچی میں بندرگاہ ہے جہاں سے دنیا بھر میں سامان درآمد و برآمد ہوتا ہے۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں زراعت سے خام مال حاصل ہوتا ہے جو صنعتوں کو فراہم ہوتا ہے صنعت اس خام مال کی قدر میں اضافہ کرکےمقامی ضرورت پورا کرکے باقی برآمد کردیتا ہے۔ یہی صورتحال سمندری حیات کی ہے جہاں سی فوڈ مثلاً مچھلی جھینگے اور دوسری آبی حیات برآمد کردی جاتی ہے۔
اسی طرح سندھ میں مختلف اقسام کی معدنیات پائی جاتی ہیں، جن میں سے بہت سی مقامی صنعتوں میں استعمال ہوتی ہیں اور کچھ بین الاقوامی سطح پر برآمد کی جاتی ہیں۔ پاکستان کی مجموعی معدنی برآمدات میں سندھ کا حصہ اہم ہے، خاص طور پر تعمیراتی پتھروں اور صنعتی معدنیات کے حوالے سے سندھ کو ایک منفرد مقام حاصل ہے جس کی ایک مثال تھرپارکر کا کوئلہ ہے جس سے بجلی کی پیداوا ر بھی ہورہی ہے۔
دوسری طرف سندھ میں روزگار صرف فصلیں اگانے تک محدود نہیں بلکہ اس کی کئی شاخیں ہیں، گندم، کپاس، چاول اور گنے کی کاشت میں لاکھوں ہاری اور مزدور شامل ہیں۔ دیہی سندھ میں مال مویشی پالنا ایک مستقل کاروبار ہے۔ میرپور خاص اور نواب شاہ میں آم اور کیلے کے باغات ہزاروں خاندانوں کی کفالت کرتے ہیں۔ سندھ کا ساحلی علاقہ ٹھٹھہ، بدین اور کراچی اور منچھر جھیل جیسے مقامات مچھلی کے شعبے سے وابستہ لاکھوں لوگوں کو روزگار دیتے ہیں۔
دنیا میں بہت سے ممالک اپنی معیشت کا بڑا حصہ زرعی آمدنی اور برآمدات سے حاصل کرتے ہیں۔ ان ممالک کو دو طرح سے دیکھا جا سکتا ہے، ایک وہ جو دنیا کے بڑے برآمد کنندگان ہیں اور دوسرے وہ جن کی معیشت کا کل انحصار زراعت پر ہے۔ مثلاً امریکہ دنیا کا سب سے بڑا زرعی برآمد کنندہ ہے۔ یہاں سے مکئی، سویا بین، گندم اور گوشت پوری دنیا میں بھیجا جاتا ہے۔ برازیل یہ سویا بین، گنے، کافی اور گائے کے گوشت کی برآمد میں عالمی لیڈر ہے۔ نیدرلینڈ رقبے میں چھوٹا ہونے کے باوجود، یہ ملک پھولوں، ڈیری مصنوعات اور سبزیوں کی برآمد میں دنیا میں دوسرے یا تیسرے نمبر پر آتا ہے۔ اسی طرح چین دنیا میں سب سے زیادہ زرعی پیداوار حاصل کرنے والا ملک ہے یہ چاول، چائے اور مختلف پھل برآمد کرتا ہے۔ ہمارا پڑوسی بھارت چاول خاص طور پر باسمتی، مصالحہ جات، چائے اور چینی کی برآمد سے بھاری زرمبادلہ کماتا ہے۔ یہ وہ ممالک ہیں جو جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے بڑے پیمانے پر فصلیں اگاتے ہیں اور انہیں دوسرے ممالک کو فروخت کرکے اربوں ڈالر کماتے ہیں۔
اسی طرح دیکھا جائے تو لائیو اسٹاک یا مال مویشی پالنا عالمی معیشت کا ایک انتہائی اہم حصہ ہے۔ کئی ممالک کی معیشت کا پہیہ صرف فصلوں پر نہیں بلکہ جانوروں اور ان سے حاصل ہونے والی مصنوعات دودھ، گوشت، اون اور چمڑا پر چلتا ہے۔ کچھ ممالک ایسے ہیں جنہوں نے لائیو اسٹاک کو ایک بڑی صنعت میں بدل دیا ہے۔ مثلاً برازیل یہ دنیا میں گائے کے گوشت کا سب سے بڑا برآمد کنندہ ہے۔ برازیل کی معیشت کا ایک بہت بڑا حصہ گوشت کی عالمی منڈی سے وابستہ ہے۔ برازیل اور امریکہ جیسے ممالک نے اپنی زراعت او ر لائیواسٹاک کو "صنعت" بنا لیا ہے، جس کی وجہ سے وہ کم رقبے سے زیادہ آمدنی حاصل کر رہے ہیں آسٹریلیا بھیڑ بکریوں اور اون کی پیداوار میں دنیا بھر میں مشہور ہے۔ یہ ممالک زندہ جانوروں اور گوشت کی برآمد سے اربوں ڈالر کماتا ہے۔ نیوزی لینڈ ڈیری مصنوعات یعنی دودھ، مکھن، پنیر کا بادشاہ مانا جاتا ہے۔ نیوزی لینڈ اپنی دودھ کی مصنوعات کا تقریباً 95 فیصد حصہ برآمد کرتا ہے۔ امریکہ پولٹری اور بیف کی پیداوار میں بہت آگے ہے اور جدید ٹیکنالوجی کے ذریعے اس شعبے سے بھاری منافع کماتا ہے۔ بھارت میں دنیا کی سب سے زیادہ بھینسیں پائی جاتی ہیں اور یہ دودھ کی........
