Aik Ehad Ka Ikhtitam: Dr. Hasan Manzar Ki Yaad Mein
ایک عہد کا اختتام: ڈاکٹر حسن منظر کی یاد میں
اردو فکشن کی دنیا آج ایک ایسے صاحبِ اسلوب ادیب سے محروم ہوگئی ہے جس نے زندگی کو محض دیکھا نہیں بلکہ اسے مختلف تہذیبوں، معاشروں اور انسانی تجربات کے اندر اتر کر سمجھنے کی کوشش کی۔ معروف فکشن نگار، ناول نویس اور افسانہ نگار ڈاکٹر حسن منظر کے انتقال سے اردو ادب میں ایک ایسا خلا پیدا ہوا ہے جسے کسی ایک شخصیت کی جدائی کا نام دے کر نظر انداز نہیں کیا جاسکتا۔ وہ ان ادیبوں میں شامل تھے جنہوں نے اردو فکشن کے موضوعاتی اور جغرافیائی دائرے کو وسعت دی اور انسانی زندگی کے ایسے گوشوں کو اپنی تخلیقات کا حصہ بنایا جو عام طور پر ہماری ادبی توجہ سے اوجھل رہتے ہیں۔
ڈاکٹر حسن منظر کی وفات کے اس موقع پر ان کی ادبی زندگی کو یاد کرنا دراصل اردو فکشن کی ایک اہم روایت کو یاد کرنا ہے۔ ان کی شخصیت میں ڈاکٹر، ماہرِ نفسیات، مسافر، مشاہد اور تخلیق کار ایک دوسرے سے اس طرح مربوط تھے کہ ان کی نثر میں زندگی کی گہری واقفیت محسوس ہوتی ہے۔ ان کی پیدائش 4 مارچ 1934ء کو ہاپڑ، اترپردیش میں ہوئی۔ قیامِ پاکستان کے بعد ان کا خاندان پاکستان منتقل ہوا۔ انہوں نے کنگ ایڈورڈ میڈیکل کالج سے طب کی تعلیم حاصل کی اور بعدازاں اسکاٹ لینڈ کی یونیورسٹی آف ایڈنبرا سے نفسیات میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی۔
ان کا طبی پیشہ ان کے ادبی شعور سے الگ کوئی دنیا نہیں تھا۔ وہ انسان کو اس کے ظاہری وجود سے آگے، اس کے باطن، اضطراب، محرومی، خواہش اور داخلی کشمکش کے ساتھ دیکھتے تھے۔ یہی سبب ہے کہ ان کے کردار محض کہانی کا حصہ نہیں بنتے بلکہ اپنی نفسیاتی ساخت کے ساتھ قاری کے سامنے آتے ہیں۔ تاہم حسن منظر کے بارے میں یہ تصور درست نہیں کہ انہوں نے اپنے مریضوں کی زندگیوں کو براہِ راست افسانوں میں منتقل کیا۔ خود ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے کہانیاں لکھنا بہت کم عمری میں شروع کردیا تھا، جبکہ نفسیات کے شعبے میں ان کا عملی سفر بعد میں شروع ہوا۔
حسن منظر کے تخلیقی سفر کی سب سے بڑی خوبی وسیع مشاہدہ ہے۔ ان کی زندگی مختلف ملکوں اور معاشروں سے گزری۔ نائجیریا، سعودی عرب، ملائیشیا اور دیگر خطوں میں قیام نے انہیں ایسے تجربات........
