menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Molana Fazal Ur Rehman: Kuch Saaf Saaf Baatein

28 0
23.08.2026

مولانا فضل الرحمٰن: کچھ صاف صاف باتیں

مولانا فضل الرحمٰن صاحب ایک بار پھر پی ڈی ایم ٹو کا حصہ بن کر تحریک چلانے کا اعلان کرچکے ہیں۔ مولانا کی سیاست سے کوئی گلہ نہیں، کیونکہ ہماری سیاست میں یہ سب کچھ نیا نہیں۔ تاہم اس حوالے سے کچھ باتیں ضرور کرنا چاہتا ہوں۔ موقف تبدیل کرنا بذاتِ خود کوئی جرم نہیں۔ سیاست میں رائے بدلتی رہتی ہے اور کل کے مخالف سے آج مفاہمت بھی ہوسکتی ہے۔ اصل مسئلہ تبدیلی نہیں، بلکہ اس تبدیلی کی دیانت دارانہ وضاحت ہے، خاص طور پر اس وقت جب ماضی کا سیاسی اختلاف مذہبی رنگ بھی اختیار کرچکا ہو۔

مولانا فضل الرحمٰن صاحب نے کئی سال تک عمران خان اور تحریک انصاف کے خلاف بھرپور مہم چلائی۔ جمعیت علمائے اسلام کے قائدین کی جانب سے عمران خان کو یہودی ایجنٹ اور قادیانی نواز تک کہا گیا اور تحریک انصاف کو اسلام، مدارس اور مذہبی طبقے کے دشمن کے طور پر پیش کیا گیا۔ جمعیت سے وابستہ بعض علماء اور کارکنان نے بھی عمران خان اور تحریک انصاف کے بارے میں انتہائی سخت زبان استعمال کی اور بعض مواقع پر دینی فتووں تک کی نوبت آئی۔ کارکنوں کے ذہنوں میں ایسی نفرت پیدا کی گئی کہ وہ اسے دین کی خدمت سمجھنے لگے اور وہ آج بھی اپنے اسی رویے پر قائم ہیں۔ اگر عمران خان اور تحریک انصاف کے بارے میں وہ سابقہ نظریہ درست تھا تو آج اسی جماعت کے ساتھ سیاسی تعاون کا مطلب کیا ہوگا؟ اور اگر وہ نظریہ غلط تھا تو ماضی میں اسی بنیاد پر کی جانے والی نفرت، الزام تراشی اور کردار کشی کا کیا جواز تھا؟

سیاسی موقف تبدیل کرنا ایک بات ہے، لیکن کسی سیاسی........

© Daily Urdu (Blogs)