Makka Muahida: Akhir Takleef Kis Baat Ki Hai?
مکہ معاہدہ: آخر تکلیف کس بات کی ہے؟
پاکستان، سعودی عرب اور ترکیہ کے مکہ معاہدے کے بعد جہاں ایک طرف کچھ ریاست مخالف عناصر، سیاسی جماعتوں کے کارکنان اور مسلکی بنیادوں پر متعصب افراد بے چین دکھائی دے رہے ہیں اور معاہدے کی خامیاں گنوانے میں مصروف ہیں، وہیں ایران کے بیانات سے تہران کی تشویش اور بے چینی بھی صاف محسوس کی جا سکتی ہے۔ ایرانی پارلیمنٹ کے ایک اہم رکن کا یہ جملہ خاصا معنی خیز ہے: "سعودیہ کو جان لینا چاہیے کہ ترکیہ اور پاکستان کے ساتھ کاغذ پر کیا گیا معاہدہ اسے سلامتی فراہم نہیں کرے گا، بالکل اسی طرح جیسے برسوں تک امریکا پر انحصار بھی اسے سلامتی فراہم نہیں کر سکا"۔
بظاہر یہ ایک سیاسی تبصرہ ہے، لیکن اس کے پس منظر میں ایک اہم اعتراف موجود ہے۔ اگر ایران کا بنیادی اعتراض سعودی عرب میں امریکی فوجی موجودگی اور بیرونی طاقتوں پر انحصار تھا تو پاکستان اور ترکیہ جیسے برادر........
