Wazir e Azam House Par Telecom Tower
وزیر اعظم ہاوس پر ٹیلی کام ٹاور
وزیر اعظم محترم شہباز شریف وفاقی وزیر انفارمیشن ٹیکنالوجی محترمہ شزہ فاطمہ، وفاقی سیکرٹری سمیت اراکین پارلیمنٹ کے محل نما گھروں میں ٹیلی کام کمپنیوں کے ٹاورز لگیں گے؟ ماہانہ کرایہ وصول کریں گے اور آمدنی میں اضافہ۔ ہاں مگر انکار پر پانچ پانچ کروڑ کے جرمانے اور اس کے خلاف کوئی اپیل نہ شنوائی۔ وزارت نے غریب آدمی کو امیر بننے کا موقع فراہم کیا تھا مگر ہم جیسے ان کی راہ میں رکاوٹ اور احتجاج کرنے بیٹھ گئے۔ بھلا ٹیلی کام کمپنی کو پسند آ جانے والی جگہ پر آگر ٹاور لگ جاتے تو کیا قیامت آ جانا تھی کم از کم ان کے سگنلز کا معاملہ تو حل ہوتا کہ جو اب عوام کے لیے درد سر کہ 5 جی تو باتیں ہیں موبائل کمپنیوں کے 3جی بھی عملا کم ہی کام کرتے ہیں۔
ویسے وزارت انفارمیشن کی عالی دماغ وزیر محترمہ نے کیا سوچ کر بل پیش کیا ہوگا اور لیگل ٹیم، سیکرٹریز و بیوروکریسی نے رہی سہی کسر نکال کر عام شہری کے کس بل نکالنے کا کیا خوب انتظام کیا۔ پھر "باشعور معزز اور لائق فائق اراکین پارلیمنٹ" نے پڑھے سنے بغیر کیسے اسے منظور کیا؟ حتی کہ ہماری "ہونہار کابینہ " نے بھی۔ جی یہ سب مراحل طے ہو گئے۔ ممکن ہے وزارت نے یہ بل طاقتور اور اشرافیہ کے گھروں پہ لگنے والے ٹاورز طاقتور سگنلز فراہمی کے لیے بنایا ہو کہ طاقتوروں کے ساتھ مل کر تو کمزور........
