اتحادی سیاست ایک نئے مرحلے میں داخل
نواز شریف کی سیاست کا ایک بنیادی وصف یہ رہا ہے کہ وہ طویل سیاسی بحرانوں میں فوری ردعمل دینے کے بجائے وقت، حالات اور طاقت کے توازن کو دیکھ کر اگلا قدم اٹھاتے ہیں۔ اس لیے مری کا اجلاس محض ایک پارٹی میٹنگ سمجھ کر نظرانداز کرنا بھی شاید درست نہیں۔ تاہم اس اجلاس کو کسی بڑی سیاسی تبدیلی کا فیصلہ کن ثبوت قرار دینا بھی قبل از وقت ہو گا۔دوسری طرف پیپلز پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کا اجلاس اور آصف زرداری و بلاول بھٹو کی مشاورت اس بات کی علامت ہے کہ حکومت کی اتحادی سیاست بھی ایک نئے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے۔ اتحادی حکومتیں صرف اقتدار بانٹنے سے نہیں چلتیں؛ انہیں مسلسل اعتماد، مفاہمت اور سیاسی توازن درکار ہوتا ہے۔ اگر آنے والے دنوں میں آئینی ترمیم، عمران خان، احتجاج اور صوبائی معاملات ایک ہی وقت میں سامنے آتے ہیں تو اتحادیوں کے درمیان سیاسی ہم آہنگی پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہوجائے گی۔اس سارے منظرنامے میں ایک اور پہلو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ خیبر پختونخوا، بلوچستان اور کشمیر کی صورتحال، دہشت گردی کے خدشات، سیاسی احتجاج اور معاشی دباؤ ایک ساتھ موجود ہوں تو ریاست کے لیے سب سے مشکل کام........
