menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

چین پر کچھ اثر نہیں پڑنے والا

9 0
friday

امریکہ کی جانب سے چھیڑی گئی جنگ کے نتیجے میں ایران نے آبنائے ہرمز بند کیا کی،دنیا بھر کی کمزور معیشتوں کو جان کے لالے پڑ گئے ہیں۔ پاکستانیوں کو موسم گرما کے آغاز پر ہی جس غضب ناک لوڈ شیڈنگ کا سامنا کرنا پڑا ہے، اس کے نتیجے میں ہر ایرے غیرے کو دن میں تارے نظر آنا شروع ہو گئے ہیں،ادھر انڈیا میں گیس  سلنڈر کی نایابی اور بلیک سے  ہر دوسرا شہری پریشان ہے، بنگلہ دیش میں پٹرول کی راشننگ نے عوام کی ناک میں دم کر رکھا ہے۔ دبئی میں ہونے والی اندھا دھند سرمایہ کاری نے نئی منزلوں کی تلاش شروع کردی ہے، وائٹ کالر جاب رکھنے والے دسیوں ہزاروں لوگ اپنی فیملیوں سمیت خوف میں مبتلا ہیں کہ ان کا مستقبل کیا ہو گا؟

دلچسپ بات یہ ہے کہ امریکہ یہ سب کچھ چین کا ناطقہ بند کرنے کے لئے کر رہا ہے لیکن چین کی معیشت پر اس کا کچھ اثر نہیں پڑا، اس سے قبل امریکہ نے وینزویلا کے صدر کو گرفتار کیا اور وہاں کے تیل کے ذخائر پر قبضہ کیا تو بھی یہی کہا گیا کہ   ٹرمپ نے یہ سارا جتن چین کو تیل کی سپلائی روکنے کے لئے کیا ہے  لیکن چین کی جانب سے ایک دن بھی ایسی کسی پریشانی کا اظہار نہیں کیا گیا،الٹا چین نے ایران کے خلاف خلیجی ممالک کی قرارداد کو ویٹو کرکے ایران کے لئے امریکہ کے ساتھ  برابری کی سطح پر مذاکرات کی راہ ہموار کی۔ 

ایسا لگتا ہے کہ چین کی معیشت اس قدر پھیل چکی ہے کہ امریکہ کی سازشوں کا اس کی صحت پر کچھ اثر ہی نہیں  ہورہا ۔ مثال کے طورپر وینزویلا سے جو تیل نکلتا ہے کہ وہ ہیوی آئل ہوتا ہے جسے امریکہ اپنے ملک میں استعمال نہیں کرسکتا ، وہاں لائٹ آئل ہی استعمال ہو سکتا ہے کیونکہ وہاں پر ایسی فیکٹریاں ہی اب نہیں رہی ہیں جن میں ہیوی آئل استعمال ہو سکے، اس کے مقابلے میں چین میں اب بھی ایسی فیکٹریاں پروڈکشن پر جتی ہوئی ہیں جن میں ہیوی آئل کثرت سے استعمال ہوتا ہے، اس لئے چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ امریکہ بھلے وینزویلا کے تیل پر قبضہ کر لے، چین کو وہاں کے تیل کی سپلائی نہیں روک سکتا کیونکہ اس کے علاوہ دنیا میں اس تیل کا اور کوئی خریدار ہی نہیں ہے، اس لئے چاروناچار امریکہ کو وینزویلا سے ہیوی آئل کی چین کو سپلائی جاری رکھنا ہی پڑے گی۔ 

کہا جاتا ہے کہ دنیا بھر کی ساری مصیبتیں کمزور ممالک کے لئے ہوتی ہیں یعنی اگر ایران پر عالمی پابندیاں لگی ہوئی ہیں تو اس کا براہ راست اثر پاکستان ایسی کمزور معیشتوں پر پڑتا ہے کیونکہ اگر وہ ایران سے تیل لیتا ہے تو وہ بھی ان تجارتی پابندیوں کی زدمیں آسکتا ہے جو ایران پر لگی ہوئی ہیں جبکہ چین ایسا مضبوط معیشت کے حامل ملک  ہے کہ اس کو قطعاً کوئی پرواہ نہیں ہے اور وہ عالمی پابندیوں کے باوجود دھڑلے سے ایرانی تیل خریدتا ہے۔ جب ہم اپنے چینی دوستوں سے پوچھتے ہیں کہ آبنائے ہرمز پر ہنگامی کیفیت کی وجہ یہ بیان کی جاتی ہے کہ اس کا مقصد چین کو آئل کی سپلائی میں خلل ڈالنا ہے تو ان کاجواب ہوتا ہے کہ ایسے خلل کا چینی معیشت پر کچھ خاص اثر نہیں پڑنے والا کیونکہ چین ایران سمیت دینا کے ہر کونے سے تیل خریدتا ہے اور ایک آبنائے ہرمز کو چھوڑ کر ہر جگہ سے آئل کی چین کو مسلسل سپلائی جاری ہے، یہی وجہ ہے کہ جب ان دوستوں سے پوچھا جاتا ہے کہ کیا صدر ٹرمپ چین کا دورہ کریں گے تو وہ اپنے شکوک و شبہات کا اظہار کرتے پائے جاتے ہیں، ان کے مطابق چین صرف ان سربراہان مملکت کو ویلکم کرتا ہے جو چین  کی طرح امن کے داعی ہوتے ہیں، ان کو ویلکم نہیں کرتا ہے جو جنگی جنون میں مبتلا ہوتے ہیں  چنانچہ اس کے باوجود کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے چین جانے کے بیانات تسلسل سے آرہے ہیں، چین کی جانب سے انہیں ویلکم کرنے کا ابھی کوئی ایک بھی بیان ہماری نظر سے نہیں گذرا۔ 

اسی طرح چینی ماہرین کا ماننا ہے کہ ایران پر تمام تر معاشی پابندیوں کے باجود چین ایران سے اسی طرح تیل خریدتا ہے جس طرح روس پر عالمی پابندیوں کے باوجود وہاں سے بھی چین آئل خریدتا ہے، ان کے مطابق ان پابندیوں کا اثر چین ایسی مضبوط معیشت پر زیرو ہوتا ہے جبکہ کمزور معیشتوں کا بھرکس نکلا ہوا ہے۔جب ہم اپنے چینی دوستوں سے کہتے ہیں کہ ہماری خوش بختی ہے کہ پاکستان کو چین ایسا سچا دوست ملا ہے جس کی دوستی پر ناز کیا جاسکتا ہے تو وہ کوئی تامل کئے بغیر فوری طور پر کہتے ہیں کہ چین کو بھی پاکستان کی ہمسائیگی پر ناز ہے اور اپنے آپ کو خوش قسمت سمجھتا ہے اسے پاکستان ایسا دوست ملا ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل جنرل عاصم منیر بہت قابل قدر کام کر رہے ہیں اور ان کی کوششوں سے نہ صرف خطہ بلکہ دنیا تیسری عالمی جنگ کی حدت سے بچی ہوئی ہے۔اپنے چینی دوستوں سے پاکستان اور اس کی قیادت بارے نیک خیالات سن کر دل باغ باغ ہوجاتا ہے اور زبان اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کرتے نہیں تھکتی کہ اس نے پاکستان کے نام ایسا اعزاز لکھ دیا ہے جس کو دیکھ دیکھ کر بھارتی وزیر اعظم مودی اور ان کے ہمنواؤں کا ہندوتوا کا فلسفہ زمین بوس ہوتا چلا جا رہا ہے اور اکھنڈ بھارت کا نعرہ تو کب کا ہوا ہو چکا ہے۔ 

ایران جنگ کے بعد کی صورت حال سے اندازہ ہوتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے چین کی معاشی ناکہ بندی کا چین کی معاشی صحت کا کچھ اثر نہیں پڑنے والا ہے!


© Daily Pakistan (Urdu)