menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یونیورسٹی آف نارووال خوش قسمت سہی لیکن۔۔

11 0
sunday

اگر آپ اپنی گزشتہ زندگی کا بغور اور ناقدانہ جائزہ لیں تو آپ کہہ اُٹھیں گے کہ فلاں شخص یوں نہ کرتا تو میں یوں نہیں ووں ہوتا، یا مثلاً فلاں نے یوں کیا ہوتا تو آج میں یہ نہیں وہ ہوتا۔اسی یوں اور ووں کی نسبت سے میرے اوراق زیست میں سے ایک ورق سنہرے حروف سے مزین جگمگا رہا ہے۔ محبی اور عطا ہی عطا، ڈاکٹر محمد ضیاء الحق میری زندگی میں نہ آتے تو میں کبھی پروفیسر نہ بنتا۔ انسان پر ستارے کیا خاک اثر انداز ہوں گے، ہماری کایا پلٹنے والے یہی عام سے روشن چہرے ہوتے ہیں، نہ کہ کالے بھجنگ اجرام فلکی۔ روشن انسانی ستاروں کے پہلو پہلو یہ کائنات ”انسانی بلیک ہول“ سے بھی ”سجی“ ہوئی ہے، مغربی دنیا دیکھیں تو وہ ڈاکٹر ضیاء الحق جیسے روشن ستاروں ہی سے بھری ہے۔

لیکن اَن گنت بلیک ہول سے مزین، اپنے ملک میں ڈاکٹر محمد ضیاء الحق جیسے اجرام فلکی کبھی کبھار، بھلے خال خال سہی، مل جاتے ہیں۔ تعلیمی سفر میں مجھے ایک ”بلیک ہول“ نے دبوچ لیا جہاں میں آٹھ سال پھڑپھڑاتا رہا، اچانک ایک دن سر راہ ڈاکٹر ضیاء  الحق مل گئے، چھوٹتے ہی یوں بولے: ”شہزاد صاحب، چارج سنبھالا تو میں نے پرانی فہرستوں میں آپ کا نام بھی دیکھا۔ بسر (BASR) کا اجلاس ہونے کو ہے، آپ پرسوں تک مجھے تحقیقی خاکہ دے دیں anyother)) میں ڈال کر منظور کرا لوں گا“ یہ کہا اور کچھ سنے بغیر انہوں نے مصافحے کے لئے ہاتھ آگے کر دیا۔ ڈاکٹر صاحب سے تب ان دنوں بس واجبی سی صورت آشنائی اور چند روزہ علیک سلیک تھی، ان سے گہرا تو کیا عام سا تعلق بھی نہیں تھا لیکن میرے ایم فل میں انہوں نے مجھے ہر ممکن سہولت بہم پہنچائی اور یوں میں بلیک ہول سے نکل آیا، فوراً بعد انہوں نے  پی ایچ ڈی میں میرا داخلہ کرایا اورکھانا بھی کھلایا،مجھے چھوڑیے انہیں تو میں نے ہر کسی کے لئے عطا ہی عطا پایا۔

آپ کہیں گے کہ ہر ممنون احسان ایسی ہی باتیں کیا کرتا ہے۔ نہ صاحب نہ! یہ بتائیے کتنی جامعات ہیں جن کے سلیکشن بورڈ کبھی سالوں بعد بھی ہو پاتے ہیں؟ نہیں پتا؟ چلیے، میں بتاتا ہوں، سینکڑوں میں سے معدودے چند! مزید سنیے، ڈاکٹر ضیاء الحق کو یونیورسٹی آف نارووال کا وائس چانسلر بنے بمشکل تین ماہ ہوئے ہیں، اس مدت میں وہ اپنی والدہ کی رحلت جیسے صدمہ عظیم سے بھی گزرے،ابھی پچھلے ہفتے عید پر ملاقات ہوئی تو بولے:”ہمارے دو سلیکشن بورڈ ہو چکے ہیں“۔ کہا نا کہ یہ شخص عطا ہی عطا ہے۔  نارووال یونیورسٹی کو میں یقین دلاتا ہوں کہ سات آٹھ ہزار طلباء والی اس ننھی سی یونیورسٹی میں چار سال بعد کچھ نہیں تو 20 - 30 ہزار طلبا ہوں گے۔ تب یہ جامعہ ملک کی چند موقر جامعات میں سے ایک ہوگی: مسلکی، نسلی اور علاقائی تنگنائیوں سے پاک یونیورسٹی! نارووال یونیورسٹی بہت خوش قسمت ہے لیکن۔۔۔۔۔!

 اس”لیکن“ کے آگے کا ماجرا ذرا دل خراش ہے۔ ڈاکٹر صاحب کہنے کو تو پروفیسر ہیں لیکن سفارت کاری جیسے پیچیدہ فن میں وہ کسی کیریئر ڈپلومیٹ سے بھی اچھے سفارت کار ہیں۔ علمی دنیا کے چوٹی کے تحقیقی مرحلے ”امریکی فل برائٹ اسکالر شپ“ سے گزر چکے ہیں۔ یورپ امریکہ میں ان کی متعدد دیگر تحقیقی سرگرمیاں اسی ایک چھتنار تلے آ جاتی ہیں، لہٰذا بقیہ کا ذکر بے سود ہے، بات سفارتکاری کی ہو رہی تھی، وسط ایشیائی ممالک کے حکام سے ان کے قریبی تعلقات ہیں۔ قازقستان تو ان کا دوسرا گھر ہے۔ میں ان کی والدہ کی وفات پر تعزیت کرنے گیا تو قازق سفیر وہاں پہلے سے موجود تھے۔ ڈاکٹر صاحب موصوف صدر قازقستان سے اعلیٰ سول ایوارڈ یافتہ بھی ہیں۔میں ان کا علمی مرتبہ متعین کرنے کا روادار تو نہیں ہوں، تاہم ان کی شخصیت کا چند لفظی خاکہ بیان کرنا ہو تو وہ یوں ہوگا: ”اپنے کام سے کام رکھنے والا اعلیٰ پائے کا وہ بے مثال (unique)“ مدبر و منتظم جو تمام حواس خمسہ سے بیک وقت کام لیتا ہے۔

حواس خمسہ سے بیک وقت کام لینے کا بھی سن لیجئے۔ ان کے متعلق یہ رائے میں نے ربع صدی قبل قائم کی تھی۔ ایم فل کا مقالہ جمع کراتے وقت میرے ”اظہار تشکر“ کا ایک ٹکڑا کچھ یوں تھا: ”حواس خمسہ سے بیک وقت پانچ کام لینے والے ڈاکٹر محمد ضیاء الحق کا خصوصی شکریہ جو کام، کام اور کام کی عملی تفسیر ہیں، آپ ان سے ملنے جائیں تو انہیں بیک وقت کئی کام کرتے پائیں گے، آنکھوں میں آنکھیں ڈالے ایک طرف آپ کو تو دوسرے کان سے ہاتھ میں پکڑا فون سنیں گے۔ایک ہاتھ میں چائے تو دوسرے سے فائل پر احکام جاری کر رہے ہوں گے، اور آپ کو خیال تک نہیں آئے گا کہ آپ کو نظر انداز کیا جا رہا ہے۔۔۔“ سپروائزر نے یہ عبارت اور خود اپنے بارے میں ایسی ہی ایک اور، بقول ان کے”لایعنی“، عبارت  یہ کہہ کر حذف کرا دیں:  ”آپ کے لکھے کی اہمیت مسلم لیکن آپ تحقیقی مقالہ جمع کرا رہے ہیں خاکہ نگاری نہیں کر رہے۔ تحقیق میں خاکہ نگاری نہیں ہوتی“۔

 اب آپ کو جان لینا چاہئے کہ میں نے ان کی تقرری کو نارووال یونیورسٹی کی خوش قسمتی کہہ کر  ”لیکن“ پر جملہ ادھورا کیوں چھوڑا،اس جامعہ کو سینکڑوں دیگر وی سی مل سکتے ہیں۔ ڈاکٹر ضیاء  الحق کے وائس چانسلر بننے پر خوشی اپنی جگہ، افسوس یوں ہوا کہ بین الاقوامی قد کے اس منتظم، سفارت کار، مدبر اور ماہر تعلیم کو وائس چانسلرہی لگانا تھا تو قائداعظم یونیورسٹی،علامہ اقبال اوپن یونیورسٹی، کراچی یونیورسٹی یا پنجاب یونیورسٹی میں لگایا ہوتا۔ یہ کیا کہ جس شخص سے قومی سطح کے انمول کام لیے جا سکتے ہیں اسے وہ دور پار کرتار پورہ سرحد پر ایک قصبے میں بھیج دیا گیا۔ خیر اللہ کے ہر کام میں خیر و حکمت ہوتی ہے، شاید وہ انہیں خود مختار رکھ کرانہیں مزید سکھانا چاہ رہا ہو۔

متعدد سیاسی و دفتری آلائشوں سے پاک ڈاکٹر ضیاء الحق کا درست ترین اور اصل منصب ہر حکومت میں وفاقی سطح کا منصب ہے  اگر کوئی حکومت انہیں کسی خود سر ے ملک میں سفیر لگا دے تو سال بھر میں وہ اس ملک کی مشکیں کس کے رکھ دیں گے، انہیں چیئرمین ہائر ایجوکیشن کمیشن لگایا جائے تو وہ جہاں تہاں سے کروڑوں ڈالر لے آئیں گے۔ آپ انہیں صوبائی رابطے کا وفاقی وزیر لگا دیں تو پانچ مختلف الخیال حکومتوں کو وہ باہم متحد الاجسام کر دیں گے۔ چلیے اللہ نے خیر کی تو کبھی آئندہ سہی۔ ابھی تو ڈاکٹر صاحب ریٹائر بھی نہیں ہوئے۔ ڈاکٹر ضیا الحق قومی اثاثہ ہیں جن سے ہر حکومت کو استفادہ کرنا چاہے۔


© Daily Pakistan (Urdu)