چوہدری محمد سرور
ریاستی نظم میں پارلیمنٹ محض قانون سازی کا ادارہ نہیں بلکہ عوامی حاکمیت کے اظہار، اجتماعی دانش کے استعمال اور مختلف آرا کے درمیان آئینی مفاہمت پیدا کرنے کا سب سے اہم آئینی فورم سمجھا جاتا ہے۔ ایک جمہوری ریاست میں شہری اپنے نمائندوں کو اس توقع کے ساتھ منتخب کرتے ہیں کہ انکی معاشی مشکلات، سماجی مسائل، بنیادی حقوق، روزگار، تعلیم، صحت، امن و امان اور مستقبل سے متعلق خدشات پارلیمان کے ایوانوں تک پہنچیں گے اور وہاں بحث، تحقیق اور مشاورت کے بعد ان کا قابلِ عمل اور قانونی حل تلاش کیا جائیگا۔بدقسمتی سے پاکستان میں گزشتہ دو دہائیوں کے سیاسی تجربات نے اس تصور کو خاصا کمزور کیا ہے۔ پارلیمنٹ بتدریج ایک ایسے فورم کی صورت اختیار کرتی گئی جہاں عددی اکثریت اکثر دلیل، تحقیق اور وسیع تر قومی اتفاقِ رائے پر غالب آ جاتی ہے۔ ہمارے سیاسی اور پارلیمانی ڈھانچے میں جس فریق کو سادہ اکثریت حاصل ہو جائے، اسے عملی طور پر قانون سازی، حکومتی پالیسی اور فیصلہ سازی پر فیصلہ کن اختیار حاصل ہو جاتا ہے۔یہاں بنیادی سوال کسی حکومت یا کسی مخصوص سیاسی جماعت کی نیت کا نہیں بلکہ نظام میں موجود اس ساختی کمزوری کا ہے جس میں 51فیصد عددی قوت بعض اوقات 49 فیصد رائے کو سیاسی طور پر غیر مؤثر بنا دیتی ہے۔ جمہوریت یقیناً اکثریت کے حقِ حکومت کو تسلیم کرتی ہے، لیکن آئینی جمہوریت کا مفہوم صرف اکثریت کی حکمرانی نہیں۔ اس میں اقلیتی رائے کا احترام، اختلاف کا حق، ادارہ جاتی توازن، شفاف مشاورت اور فیصلہ سازی میں مختلف طبقات کی شرکت بھی لازمی اجزا ہیں۔ اگر ایک بڑا سیاسی، سماجی یا فکری طبقہ مسلسل یہ محسوس کرے کہ ریاستی پالیسی سازی میں اسکی رائے کی کوئی مؤثر جگہ نہیں تو اس کے نتیجے میں سیاسی بے اعتمادی، سماجی تقسیم اور اداروں سے دوری میں اضافہ ہو تا ہے۔
جدید دنیا نے اسی نوع کے مسائل کے حل کیلئے رسمی آئینی اداروں کیساتھ غیر رسمی مگر علمی اور تحقیقی اداروں کی اہمیت کو تسلیم کیا ہے۔ ترقی یافتہ جمہوری معاشروں میں پارلیمنٹ، عدلیہ، حکومت اور سیاسی جماعتوں کے ہوتے ہوئے بھی تھنک ٹینکس، پالیسی انسٹی ٹیوٹس، تحقیقی مراکز اور آزاد مکالماتی فورمز ریاستی فیصلہ سازی میں اہم معاون کردار ادا کرتے ہیں۔ یہ ادارے حکومت کا متبادل نہیں ہوتے، نہ پارلیمنٹ کے اختیارات میں مداخلت کرتے ہیں اور نہ ہی سیاسی جماعت کا کردار ادا کرتے ہیں۔ ان کا بنیادی کام مسئلے کو سیاسی نعرے سے نکال کر تحقیق، اعداد و شمار، قانون، معیشت، سماجیات اور انتظامی تجربے کی روشنی میں دیکھنا ہوتا ہے۔پاکستان کو بھی اس وقت ایک ایسے ہی غیر جانب دار، باوقار اور معتبر قومی تھنک ٹینک فورم کی ضرورت ہے جو اقتدار اور حزبِ اختلاف کی تقسیم سے بالاتر ہو۔ یہ فورم کسی سیاسی جماعت کا متبادل نہ ہو، کسی حکومت کا ترجمان نہ ہو اور کسی فرد یا گروہ کے سیاسی مفادات کا پلیٹ فارم بھی نہ بنے۔ اسکی اساس صرف قومی مفاد، آئینی بالادستی، دلیل، تحقیق اور قابلِ عمل پالیسی تجاویز پر قائم ہونی چاہیے۔اس نئے فورم کی تشکیل میں سب سے پہلی شرط اسکی غیر جانب داری ہونی چاہئے۔ اسکے اراکین کا انتخاب سیاسی وابستگی کے بجائے مہارت، دیانت، علمی استعداد، تجربے اور قومی خدمات کی بنیاد پر کیا جائے۔ آئینی و قانونی ماہرین، سابق ججز، ماہرینِ معیشت، سابق سفارت کار، ماہرینِ تعلیم، صحافی، سماجی سائنس دان، ماہرینِ قومی سلامتی، کاروباری و صنعتی نمائندگان، نوجوان ماہرین، ٹیکنالوجی سے وابستہ افراد اور سول سوسائٹی کے معتبر نمائندے اس کا حصہ ہوں۔ خواتین اور نوجوانوں کی نمائندگی بھی محض رسمی........
