menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

سہیل وڑائچ

31 0
yesterday

آج فخر و انبساط اور مسرت کا دن ہے۔ چہار دانگ ِ عالم میں میرے پاکستان کا چرچا ہے۔ ہر کوئی حیران ہے کہ کل کا دہشت گرد، ڈیفالٹ زدہ اور کمزور ملک عالمی بساط پر اس قدر اہم تعمیری اور مثبت کردار کیسے ادا کرسکتا ہے؟ پرائے حیران ہیں تو بات سمجھ آتی ہے اپنے بھی پریشان ہوں تو سمجھ نہیں آتی۔ ہمارا مسئلہ یہ ہوگیا ہے کہ ملک میں قنوطیت اور مایوسی کا راج ہے،ہر وہ شخص بڑا دانشور ہے جو مادر وطن کو لاحق خطرات کا ذکر کرتے ہوئے نتیجہ تباہی تک لیکر جاتا ہے۔دراصل ہمارے ملک میں تباہی خوشحالی سے زیادہ بکتی ہے، اسلئے مایوسی فروشوں کی اندرون اور بیرونِ ملک تعداد بہت بڑھ چکی ہے۔ آج مجھے پنجاب کے لافانی شاعر اور تا ابد زندہ رہنے والی کتاب’’ ہیر‘‘ لکھنے والے وارث شاہ کا یہ شعر یاد آرہا ہے۔

اوہناں نوں کیہ ڈر ہنیرے دا

(جنہوں نے بجھے ہوئے چراغ جلائے ہیں انہیں اندھیرے سے کیونکر ڈر لگے گا)

پاکستان نے اپنےسے کئی گنا بڑے ملک بھارت کو ناکوںچنے چبوا کر،امریکی صدر ٹرمپ سے دوستی پیداکرکے، ایران امریکہ جنگ میں ثالث بن کر اور سعودی عرب سے دفاعی معاہدہ کرکے مایوسی فروشوں، تباہی بھونپوؤں اور منفی بیانیوں کو یکسر ناکام کردیا۔ کل تک قنوطی جب دہشت گردی کے شکار پاکستان کے مستقبل پر سوال اٹھاتے تھے تو سوائے مادر وطن کیلئے موجود جذبات اور یہاں کے ٹیلنٹ پر بھروسے کے علاوہ کوئی دلیل نہیں ہوتی تھی مگر اٹل ارادے تو دریاؤں کے رخ بدل دیتے ہیں، پہاڑوں کے سینے چیر دیتے ہیں، تقدیر کے آگےبند باندھ دیتے ہیں۔ ایسا ہی پاکستان کیساتھ ہوا ہے بھارت کو فقیدالمثال بہادری کے بغیر ہرانا ناممکن تھا ایسی بہادری دکھائی گئی کہ بھارت بوکھلا گیا۔ صدر ٹرمپ کے بارے میں تاثر تھا کہ وہ اقتدار میںآکر پاکستان کیخلاف کھڑا ہوگا ماضی میں اس نے پاکستان کو کئی غلطیوں کا ذمہ دار ٹھہرایاتھا مگر کوئی ایساچمتکار کیا گیا کہ سب کچھ بدل گیا جنگ میں پاکستان کی کامیابیوں کا عالمی ڈھنڈورا پیٹنے اور ہماری فتح کو دنیا بھر میں تسلیم کروانے میں صدر ٹرمپ کا کردار سب سے زیادہ رہا ہے۔ ایران اور امریکہ کی جنگ بندی میں بھی اسی دوستی نے اہم کردار ادا کیا ہے، سعودی عرب سے جو دفاعی معاہدہ ہواہے وہ بھی کبھی نہ ہوپاتا اگر پاکستان نے بھارت کیخلاف جنگ میں اپنی پوری طاقت نہ دکھائی ہوتی۔ ایران بھارت کا دیرینہ حلیف ہے مگر پاکستان نے ایران کی اعانت کرکے اسے تباہی اور نقصان سے بچانے کی بھرپور کوشش کی۔ مڈل ایسٹ کی سیاست میں پاکستان پہلے بالواسطہ شریک تھا، اب براہ راست کردار بن گیا ہے ، ہمارے حکمرانوں نے مشرقِ وسطیٰ کے اوپر تلے درجنوں دورے کئےمگر بظاہر ان سے وہ فائدہ نہیں ہوا جو ہونا چاہئےتھا، توقع تھی کہ100بلین ڈالر ملیں گے مگر دوچار بلین ہی مل سکے،تاہم یہ ساری جدوجہد بے کار نہیں گئی، اس سے اعتماد کے رشتے بحال ہوئے بعض اوقات کان کن سونا ڈھونڈنے کیلئے سرتوڑ کوشش کررہے ہوتے ہیں دن رات کھدائیاں کرتے ہیں مگر سونا نہیں ملتا لیکن اچانک کدال ایک پتھر پر پڑتی ہے اور وہ پتھر ہیرا نکل آتا ہے، پُر خلوص محنت کبھی اکارت نہیں جاتی، سائنسدان گنجے پن کا علاج ڈھونڈنے پر شب وروز محنت کررہے تھے کامیابی نہیں ہو رہی تھی مگر پھر انہیں ’’ ویا گرا‘‘ مل گئی جس سے میڈیکل کی دنیا میں انقلاب آگیا۔ پاکستان مڈل ایسٹ سے سرمایہ کاری کیلئے کوشش کررہا تھا مگر اب اسے وہاں کے دفاع کی ذمہ داری مل گئی جو سرمایہ داری سے بھی محفوظ، پرکشش اور زیادہ نفع بخش ہے۔

پاکستان ہمارا ملک ہے حکومت سے اختلاف ہوتا رہتا ہے، حکومتی پالیسیوں سے اختلاف قانونی، آئینی اور اخلاقی حق ہے۔ میڈیا کا اصل کام ہی حکومتوں پر نظر رکھنا اور انکی خامیوںپر توجہ دلانا ہوتا ہے مگر ہم سب پاکستانیوں کو بلارنگ ونسل، بلا سیاسی تعصب پاکستان کی سلامتی، خوشحالی اور ترقی کا........

© Daily Jang