menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

محمود شام

11 0
thursday

کل جمعۃ المبارک ہے امید ہے وہ سورج طلوع ہوگا جب پوری دنیا سکھ کا سانس لے سکے گی۔ امریکہ اور ایران ایک مفاہمت کی یادداشت پر دستخط کریں گے پھر 60 روز تک مکمل امن میں حائل رکاوٹیں دور کی جائیں گی۔ اب بھی بہت سے خدشات ہیں کیونکہ اسرائیل کسی معاہدے ، کسی اصول ،کسی عالمی امن کو نہیں مانتا ۔اسرائیل کبیر اس کی منزل ہے ۔جیسے ہمارے پڑوسی کا اکھنڈ بھارت ایک خواب ہے۔ اسرائیل کا وجود مشرق وسطیٰ میں خون بہاتا رہتا ہے۔ جنوبی ایشیا میں بھارت انسانی خون کا بازار گرم رکھتا ہے۔ اب پاکستان عالمی امن کے قیام میں اپنا کردار ادا کر چکا۔ جاپان سے کینیڈا تک ہماری امن پسندی کا نقارہ بج چکا۔ وقت ہے کہ ہم اپنے گھر میں بھی امن لائیں ۔اپنے لوگوں کی زندگی بہتر کریں ۔ہمارے پڑوسی ایران نے ثابت کر دیا ہے کہ اپنے اصولوں ،اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے دنیا کی سب سے بڑی طاقت سے ٹکرایا جا سکتا ہے۔ حکمرانوں اور عوام کے درمیان اگر دوریاں نہ ہوں تو عالمی پابندیوںکے47سال بھی قناعت اور استقامت کے ساتھ گزارےجا سکتے ہیں۔ زمینی خداؤں سے خوف کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ بڑے بڑے رہنماؤں کی قربانیاں دے کر ایک ریاست کی عزت اور طاقت برقرار رکھی جا سکتی ہے۔ جمہوریت ہی بہترین طرز حکمرانی ہے۔ ریاست سخت ہونی چاہئے مگر آئین پر عمل درامد کروانے کیلئے۔ اختلاف رائے کو دبانے کیلئے نہیں۔ اقبال نے کہا تھا

تو قادر و عادل ہے مگر تیرے جہاں میں

ہیں تلخ بہت بندہ مزدور کے اوقات

کب ڈوبے گا سرمایہ پرستی کا سفینہ

دنیا ہے تری منتظر روزِ مکافات

پاکستان میں بھی دنیا روزِ مکافات کی بے تابی اور بے بسی سے منتظر ہے۔ سچ جانیے پاکستان کی اکثریت زندگی بہت مشکل اور بدتر حالات میں گزار رہی ہے۔ کسی قیادت کسی پارٹی کی جانب سے اسے اپنی دشوار زندگی میں کمی لانے کی آواز سنائی نہیں دیتی۔ ماہرین معیشت تجاویز اور مشورے دیتے تھک چکے ہیں۔ عالمی بینک بھی ہمارے حکمرانوںکی توجہ حقیقی مسائل کی طرف دلا چکا۔ 50لاکھ نوکریاں نکالنے کی صلاح دے چکا۔ سرکاری اخراجات محدود کرنے کے وعدے بہت ہوئے لیکن کفایت شعاری کہیں نظر نہیں آتی۔ پہلے سیاسی رہنماؤں اور بعض اوقات حکمرانوں کی طرف سے بھی ایسے جملے سننے میں آتے تھے کہ ہمیشہ غربت تلے دبے رہنا پاکستان کے عوام کا مقدر نہیں۔ ہم پاکستانیوں کے دن بدل دینگے۔ اب ایسے خوش کن جملے بھی سنائی نہیں دیتے۔ عوام اور ریاست کے درمیان سماجی معاہدے لوگوں کی جان مال کی حفاظت، بچوں کی بہترین پرورش، تعلیم، صحت، ٹرانسپورٹ اور سب سے بڑھ کر نوجوانوں کیلئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کیلئے ہوتے ہیں۔ منتخب حکمران، ارکان اسمبلی، سرکاری ملازمین سب کی اولین ذمہ داری یہی ہوتی ہے کہ اپنے عظیم ہم وطنوں کا معیار زندگی بہتر بنائیں۔ ایسے فلاحی سسٹم وضع کریں جس سے ہر خاندان اپنی کفالت بہتر انداز میں کر سکے ۔اب تو ٹیکنالوجی کا دور ہے ایسی ایسی ایجادیں اور آلات آچکے ہیں،روزگارکےنئےنئےوسائل شروع ہوچکے ہیں، روایتی نوکریوں روایتی کاروبار کی جگہ نئےنئے پیشے وجود میں آچکے ہیں حکمرانوں کا کام ان سب کو منظم کرنا ہے۔ پاکستان تو صدیوں سے ایک زرخیز اور خوشحال معاشرہ رہا ہے ۔

قدرت نے ایسے ایسے وسائل اور خزانے عطا کر رکھے ہیں کہ یہاں کسی کے بے روزگار ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا چہ جائے کہ پاکستانی خاندان ایسی بدحال زندگی گزار رہے ہوں ۔اکثریت کے دن رات بہت مشکل سے گزر رہے ہوں ۔کراچی جیسے صنعتی اور تجارتی مرکز میں اکثر ہم وطن بنیادی ضروریات زندگی سے محروم ہیں ۔روزگار ختم ہو رہے ہیں۔ نئے پیشوں کی تربیت ہے اور نہ رجحان۔ باعزت خاندان نہ تو مفت دسترخوانوں پر جا کر بھوک مٹا سکتے ہیں اور نہ راشن کے........

© Daily Jang