عطا ء الحق قاسمی
کچھ لوگ عزت دینے میں بہت فضول خرچ ہوتے ہیں۔ انھیں دراصل عزت ملی بہت ہوتی ہے، چنانچہ وہ اسے خرچ بھی بے دریغ کرتے ہیں حالانکہ عزت ملنے والوں میں کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جنھیں عزت سے الرجی ہوتی ہے، بالکل اسی طرح جیسے کئی لوگوں کو پھولوں سے الرجی ہوتی ہے۔ چنانچہ اگر انھیں کوئی محبت سے پھول پیش کر دے تو وہ چھینک چھینک کر آسمان سر پر اٹھا لیتے ہیں۔ چنانچہ یہ لوگ ساری عمر خوشبو کیلئے ترستے رہ جاتے ہیں۔ عزت سے الرجک لوگوں کی اگر کوئی عزت کرے تو وہ اسے عزت دینے سے روک تو نہیں سکتے ، چنانچہ اپنی شخصیت کے ایسے پہلو سامنے لانے لگتے ہیں کہ عزت دینے والا سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ یار یہ میں کس کی عزت کرتا رہا ہوں ؟عزت ہضم نہ کر سکنے والوں کی ایک قسم اور بھی ہے،یہ کم ظرف لوگ ہیں ۔
انھیں جب ان کے حصے سے زیادہ عزت ملتی ہے تو انھیں ” اپھارہ‘‘ہو جاتا ہے اور یوں عزت کی بد ہضمی کی وجہ سے ان کا پیٹ غبارہ بننے لگتا ہے، چنانچہ وہ عزت دینے والے کی عزت گھٹانے میں لگ جاتے ہیں۔ جو لوگ عزت کے مستحق نہیں ہوتے اور آپ ان کی عزت کرتے ہیں تو ان میں سے کئی آپ کے خلاف سازشیں کرنے لگ جاتے ہیں۔ اگر آپ بے وقوف ہیں اور ان سازشوں کے سد باب کیلئے ان کے مقابل کھڑے ہو جاتے ہیں تو ان کا مقصد پورا ہو جاتا ہے۔ جب آپ کسی کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ وہ محسوس کرنے لگتا ہے کہ شاید وہ آپ کے تھلے لگ گیا ہے، چنانچہ وہ اپنی آستین سے طعنوں اور کمینگیوں کا خنجر نکال کر آپ پر حملہ آور ہو جاتا ہے، لہٰذا کسی کیلئے آسانیاں پیدا کرنے سے پہلے اس کی سوچ کا الٹراساؤنڈ ضرور کر ا لینا چاہئے ۔
یہ ساری باتیں میں یوں کر رہا ہوں کہ میری ساری زندگی رنگ برنگے لوگوں کے درمیان گزری ہے۔ میں نے ہر طرح کی زندگی گزاری ہے۔ لیکچرر سے لے کر سفیر پاکستان ۔اور سفیر پاکستان سے متعدد علمی وادبی اور ثقافتی اداروں کی سربراہی تک کا سفر بھی میں نے طے کیا ہے۔ بطور ادیب اور بطور کالم نگار مجھے........
