menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

قدرت کا محفوظ خزانہ (2)

16 0
previous day

بہاولپور کے قریب لال سوہانرا قومی پارک کے وسیع و عریض قدرتی منظرنامے میں قائم شیخ محمد بن زاید النہیان تحفظ و افزائش مرکز محض جنگلی حیات کا ایک محفوظ احاطہ نہیں بلکہ چولستان کے قدرتی ورثے، نایاب جانوروں، پرندوں، نباتات اور پورے ماحولیاتی نظام کے تحفظ کی ایک قابلِ تحسین مثال ہے۔ یہ مرکز ہوبارہ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل پاکستان کے اہم منصوبوں میں شامل ہے اور اسے مارچ 2015ء میں قائم کیا گیا۔ اس کا بنیادی مقصد تلور، چنکارا، کالا ہرن اور نیل گائے سمیت جنگلی حیات کی مختلف انواع کو محفوظ کرنا، ان کی افزائش نسل کو فروغ دینا، تلور پر تحقیق کرنا اور چولستان کی نباتات و حیوانات کے قدرتی مسکن کو محفوظ بنانا ہے۔ مرکز تقریباً ایک سو سینتالیس مربع کلومیٹر یعنی تقریباً سینتالیس سو پچاس ہیکٹر کے وسیع محفوظ رقبے پر مشتمل ہے۔ جہاں گھاس کے میدان، نباتات سے ڈھکے ریتلے ٹیلے، جھاڑیاں، ہزاروں درخت اور بارش کے پانی سے بھرنے والے تئیس تالاب موجود ہیں۔ یہ ایک ایسا وسیع اور محفوظ قدرتی ماحول ہے جہاں جانوروں کو محض محدود باڑوں یا پنجروں میں رکھنے کے بجائے نسبتاً فطری ماحول میں اپنی خوراک تلاش کرنے، نقل و حرکت کرنے، افزائش نسل کرنے اور اپنے قدرتی رویوں کے اظہار کا موقع دیا جاتا ہے۔ مرکز کے قیام کے ابتدائی مرحلے میں تقریباً چودہ ہزار ایکڑ صحرائی رقبے پر ہرن اور تلور کے تحقیق و افزائش کے مرکز کا منصوبہ شروع کیا گیا تھا، جبکہ موجودہ محفوظ احاطے کی توسیع اور انتظام نے اسے ایک وسیع........

© Daily 92 Roznama