قومی سلامتی کے لیے سٹریٹجک ذخائر کی تعمیر ناگزیر
قومی سلامتی کے لیے سٹریٹجک ذخائر کی تعمیر ناگزیر
وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مشرقِ وسطیٰ کے جاری بحران کو حالیہ تاریخ کے بڑے رسدی بحرانوں میں شمار کرتے ہوئے پاکستان میں سٹریٹجک ذخائر کی تعمیر کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت کی نشاندہی ہے جسے پاکستان جیسے درآمدی انحصار رکھنے والے ممالک مزید نظرانداز نہیں کر سکتے۔ مشرقِ وسطیٰ میں جنگ، بحری راستوں کی بندش، رسد میں تعطل اور توانائی کی ترسیل میں رکاوٹ نے دنیا کو یاد دلایا ہے کہ عالمی تجارت کا نظام کتنا نازک اور جغرافیائی سیاست کا کتنا محتاج ہے۔پاکستان اس وقت تیل، گیس، خوردنی تیل، دالوں، گندم، کھاد اور بعض صنعتی خام مال کے لیے بیرونی منڈیوں پر انحصار کرتا ہے۔ ان میں سب سے اہم سٹریٹجک ذخیرہ توانائی کا ہے کیونکہ ملکی صنعت، ٹرانسپورٹ، زراعت اور بجلی کی پیداوار بڑی حد تک درآمدی ایندھن سے وابستہ ہے۔ اگر خلیج یا آبنائے ہرمز میں کشیدگی پیدا ہو اور تیل کی ترسیل متاثر ہو تو پاکستان چند ہفتوں میں شدید دباؤ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس وقت پاکستان کے پاس محدود پیٹرولیم ذخائر موجود ہیں جو عمومی طور پر چند ہفتوں کی ضروریات پوری کرنے کے قابل سمجھے جاتے ہیں، مگر بین الاقوامی معیار کے مطابق کم از کم نوے دن کے ذخائر ناگزیر ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وزیر خزانہ کی جانب سے سٹریٹجک ذخائر کی بات دراصل قومی اقتصادی سلامتی کی بنیاد کی طرف توجہ دلانا ہے۔ توانائی کے بعد خوراک کے ذخائر پاکستان کے لیے سب سے زیادہ اہم ہیں۔ پاکستان زرعی ملک ضرور ہے مگر آبادی کے دباؤ، موسمیاتی تبدیلیوں، ذخیرہ اندوزی اور انتظامی کمزوریوں کے باعث گندم، چینی اور خوردنی تیل کے بحران بار بار جنم لیتے رہتے ہیں۔ حالیہ برسوں میں آٹے اور چینی کے بحران نے واضح کیا کہ خوراک کے حوالے سے ریاستی تیاری ناکافی ہے۔ اگر عالمی جنگ یا تجارتی ناکہ بندیوں کے نتیجے میں درآمدی سپلائی متاثر ہو جائے تو شہری آبادی فوری طور پر مہنگائی اور قلت کا شکار ہو سکتی ہے۔ لہٰذا گندم، چاول، دالیں، خوردنی تیل اور چینی کے ایسے قومی ذخائر ناگزیر ہیں جو کم از کم تین سے چھ ماہ کی ضروریات پوری کر سکیں۔اسی طرح زرعی پیداوار برقرار رکھنے کے لیے کھاد اور بیجوں کے سٹریٹجک ذخائر بھی اہم ہیں۔ اگر بین الاقوامی رسد متاثر ہو جائے تو اگلی فصلوں کی پیداوار کم ہو سکتی ہے، جس سے خوراک کا بحران مزید گہرا ہو گا۔ صنعتی شعبے میں بھی دواسازی کے خام مال، طبی سامان، مشینری کے پرزہ جات اور آئی ٹی انفراسٹرکچر کے لیے ضروری درآمدی اجزاء کے ذخائر قومی تحفظ کا حصہ ہونے چاہئیں۔ بدقسمتی سے پاکستان میں سٹریٹجک ذخائر کا نظام منتشر، محدود اور انتظامی لحاظ سے کمزور ہے۔ کچھ ذخائر سرکاری اداروں کے پاس موجود ہوتے ہیں، مگر ان کی مقدار، معیار اور دستیابی کے بارے میں مربوط پالیسی کا فقدان ہے۔ گوداموں کی کمی، ذخیرہ کرنے کے ناقص طریقے، ادارہ جاتی ہم آہنگی کی کمی اور بدعنوانی کے خطرات اس نظام کو غیر مؤثر بناتے ہیں۔ بعض اوقات گندم جیسے ذخائر کاغذوں میں موجود ہوتے ہیں مگر عملی طور پر رسد کے وقت بحران سامنے آ جاتا ہے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ سٹریٹجک ذخائر محض اشیا جمع کرنے کا نام نہیں بلکہ ایک مکمل قومی نظام کا تقاضا کرتے ہیں۔پاکستان کو اس حوالے سے جدید آئل سٹوریج ٹرمینلز، گندم و خوراک کے محفوظ گودام، کولڈ اسٹوریج سہولیات اور خام مال کے مخصوص ڈپو قائم کرنا ہوں گے ۔ یہ تعمیرات صرف بڑے شہروں میں نہیں بلکہ ملک کے مختلف خطوں میں پھیلی ہوں تاکہ کسی ایک بندرگاہ یا راستے کی بندش پورے نظام کو مفلوج نہ کر سکے۔ دوسری سطح ادارہ جاتی نظم و نسق کی ہے۔ ایک مرکزی قومی سٹریٹجک ذخائر اتھارٹی قائم کی جانی چاہیے جو توانائی، خوراک، زرعی اور صنعتی ذخائر کی منصوبہ بندی، نگرانی اور بروقت فراہمی کی ذمہ دار ہو۔ اس اتھارٹی کے پاس شفاف ڈیجیٹل نظام ہونا چاہیے تاکہ ہر وقت معلوم رہے کہ کون سا ذخیرہ کہاں اور کتنی مقدار میں موجود ہے۔ اس کے بغیر ذخائر کا نظام سیاسی مداخلت اور بدانتظامی کا شکار رہے گا۔تیسری سطح مالیاتی حکمت عملی کی ہے۔ ذخائر کی تعمیر کے لیے سرمایہ درکار ہوگا، مگر اسے خرچ نہیں بلکہ قومی انشورنس سمجھا جانا چاہیے۔ معاشی دفاع کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ عالمی مالیاتی اداروں اور ترقیاتی شراکت داروں سے حاصل ہونے والی معاونت کا ایک حصہ سٹریٹجک ذخائر کے بنیادی ڈھانچے پر خرچ کیا جا سکتا ہے۔ نجی شعبے کو بھی پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے ذریعے شامل کیا جا سکتا ہے۔ مشرقِ وسطیٰ کی جنگ نے واضح کر دیا ہے کہ بندرگاہوں کی بندش، بحری راستوں میں رکاوٹ، ایندھن کی قیمتوں میں اضافہ اور تجارتی تاخیر کسی بھی معیشت کو ہلا کر رکھ سکتی ہے۔ پاکستان جیسی معیشت، جو پہلے ہی بیرونی دباؤ کا شکار ہے، ایسے جھٹکوں کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ اگر بروقت سٹریٹجک ذخائر نہ بنائے گئے تو ہر عالمی بحران پاکستان کے لیے مہنگائی، قلت اور معاشی عدم استحکام کا سبب بنتا رہے گا۔ اب ضرورت اس امر کی ہے کہ وزیر خزانہ کے اس وژن کو فوری عملی اقدامات میں بدلا جائے۔ سٹریٹجک ذخائر آج کی دنیا میں صرف اقتصادی ضرورت نہیں بلکہ قومی سلامتی کا بنیادی ستون ہیں۔ جو ریاستیں رسد کے بحران کے دنوں کے لیے تیاری کرتی ہیں وہی معاشی استحکام برقرار رکھتی ہیں۔ پاکستان کے لیے بھی یہی راستہ ہے کہ وہ وقتی ردعمل کے بجائے دور اندیش منصوبہ بندی اپنائے، کیونکہ آنے والے زمانے میں محفوظ وہی ہوگا جس کے پاس ضروری ذخائر موجود ہوں گے۔
