menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

اسلام آباد مذاکرات : عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

20 0
15.04.2026

اسلام آباد مذاکرات : عالمی سیاست میں بڑی تبدیلی کی آہٹ

گو کہ اسلام آباد کے سفارتی ماحول میں امریکہ اور ایران کے درمیان، پاکستان کی بھرپور سہولت کاری کے سائے میں ہونے والے حالیہ مذاکرات کسی کامیابی سے ہمکنار نہیں ہو سکے، مگر عالمی امور کے ماہرین اور مبصرین کا یہ ماننا ہے کہ یہ "جدید تاریخ کی سب سے بڑی سفارتی سرگرمی" تھی۔اس غیر معمولی سرگرمی کی گہرائی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دونوں وفود میں کم و بیش چار سو افسران شامل تھے۔ ایرانی وفد دو خصوصی طیاروں پر مشتمل ایک غیر معمولی لشکر کے ہمراہ اسلام آباد وارد ہوا تھا۔ اس وفد میں سپاہِ پاسدارانِ انقلابِ اسلامی کے متعدد اہم ارکان بھی شامل تھے۔یہ وفد اس لحاظ سے بھی منفرد تھا کہ اس میں صرف روایتی سفارت کار ہی نہیں تھے، بلکہ عسکری ماہرین کے ساتھ ساتھ سیاسی، قانونی، سکیورٹی اور معاشی امور کے منجھے ہوئے ماہرین بھی اس بھاری بھرکم وفد کا حصہ تھے، جو ہر ممکنہ منظرنامے پر غور کرنے کے لیے موجود تھے۔ مذاکرات کی میز پر تہران کی تیاری کا یہ عالم تھا کہ ایٹمی تنصیبات کی حفاظت اور ان کے دفاعی و پرامن پہلوؤں سے متعلق ایرانی وفد کی جانب سے تیار کردہ صرف ایک تکنیکی وضاحت ہی 100 سے زائد صفحات پر محیط تھی۔ یہ ضخیم دستاویز اس بات کی گواہی دے رہی تھی کہ ایرانی حکام اس بار کسی بھی قسم کے ابہام کی گنجائش نہیں چھوڑنا چاہتے تھے اور ہر تکنیکی نکتے پر اپنا دفاع کرنے کے لیے مکمل طور پر لیس ہو کر آئے تھے۔دوسری طرف، واشنگٹن نے بھی اس عمل کو معمولی نہیں لیا تھا۔ امریکہ کی جانب سے نائب صدر جے ڈی وینس خود اس مشن کی قیادت کر رہے تھے اور ان کے ہمراہ تقریباً 300 دیگر افسران اور ماہرین پر مشتمل ایک وسیع وفد اسلام آباد پہنچا تھا۔ جے ڈی وینس نے ان مذاکرات کے حساس ترین مراحل کے دوران صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے کم از کم ایک درجن مرتبہ براہِ راست رابطہ کیا۔صرف یہی نہیں، بلکہ امریکی نائب صدر نے ایک بار اسرائیل کے وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے بھی براہِ راست گفتگو کی، جس کا مقصد ممکنہ طور پر علاقائی خدشات کو دور کرنا تھا۔ تاہم، سفارتی حلقوں میں یہ بات دعوے کے ساتھ کہی جا رہی ہے کہ اسی گفتگو کے بعد امریکی وفد کا رخ سخت ہو گیا اور مذاکرات تعطل کا شکار ہو گئے۔ ویسے اس مقام پر یہ توقع رکھنا شاید حد سے زیادہ پرامیدی اور غیر حقیقی ہوتا کہ ویانا میں سن 2013 سے 2015 کے دوران ہونے والے جوہری معاہدے کے وہ پیچیدہ مسائل، جو دو سال کی طویل تگ و دو کے بعد حل ہوئے تھے، انہیں اسلام آباد کی ایک ہی طویل نشست میں مکمل طور پر سمیٹ لیا جائے گا۔ تاہم، یہ نشست اس لحاظ سے اہم رہی کہ اس نے مستقبل کے لیے ایک واضح سمت کا تعین کر دیا۔ایرانی وفد کے مطابق براہِ راست بات چیت کے دوران امریکہ نے تین ایسے نکات اٹھائے جو تعطل کا باعث بنے۔ امریکہ نے مطالبہ کیا کہ ایران کے پاس موجود وہ یورینیم، جس نے ساٹھ فیصد افزودگی حاصل کی ہے، اسے امریکی تحویل میں دیا جائے تاکہ ایران کی جانب سے ایٹم بم بنانے کی کسی بھی ممکنہ پیش قدمی کو مکمل طور پر روکا جا سکے۔ سفارت کاروں کے مطابق ایران اس افزودہ یورینیم کو کسی اور ملک کی تحویل میں دینے پر رضامند ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وینس نے ایرانی وفد کو مشورہ دیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ، عراق میں حشد الشعبی، یمن میں حوثی اور فلسطین میں حماس کی حمایت بند کر دے۔ ایرانی وفد نے اسے خطے میں امریکی افواج کے انخلا اور فلسطینی ریاست کے قیام کے ساتھ مشروط کر دیا۔ مگر سب سے زیادہ پیچیدگی آبنائے ہرمز کے معاملے پر سامنے آئی۔ ایران نے مستقل جنگ بندی کے بغیر اسے کھولنے پر رضامندی ظاہر نہیں کی۔ یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ امریکہ نے اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے جہازوں سے وصول کیے جانے والے محصول میں شراکت کی خواہش کا اظہار کیا۔ سوشل میڈیا پر اس کا عندیہ صدر ٹرمپ پہلے ہی دے چکے تھے۔ امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ دنوں میں جو "جنگ بندی" یا کشیدگی میں کمی کا تاثر ابھرا، وہ محض کسی ایک دن کی سفارتی کامیابی کا نتیجہ نہیں تھا، بلکہ یہ پسِ پردہ جاری رہنے والے ان پیچیدہ روابط، شدید علاقائی دباؤ اور عالمی طاقتوں کے حساب کتاب کا ثمر تھا جو کئی ہفتوں سے پردے کے پیچھے جاری تھے۔اس پورے عمل میں خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی تشویش اور چین کی بظاہر خاموش مگر انتہائی گہری حکمتِ عملی بھی پوری شدت کے ساتھ کارفرما رہی۔ سابق بھارتی خارجہ سیکریٹری وجے گوکھلے کے مشاہدات کے مطابق، بیجنگ نے اس پورے کھیل میں خود کو انتہائی دانستہ طور پر براہِ راست تنازع سے دور رکھا، تاکہ وہ اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والے طویل المدتی سٹریٹجک فوائد کو سمیٹ سکے۔ گوکھلے کا یہ تجزیہ انتہائی فکر انگیز ہے کہ"چین ایک انتہائی صبر آزما قوت ہے، جو ہر قدم سو بار سوچ سمجھ کر اٹھاتی ہے۔" بیجنگ کی پالیسی یہ رہی ہے کہ وہ کسی بھی نازک صورتحال پر فوری یا جذباتی ردعمل دینے کے بجائے اس کے دور رس مضمرات کا انتہائی گہرائی سے جائزہ لیتا ہے۔وجے گوکھلے کے تجزیے کے مطابق، جدید ترین ٹیکنالوجی اور بے پناہ عسکری برتری کے باوجود، امریکہ اپنے سے کہیں چھوٹے مگر پرعزم حریف کو جلدی شکست دینے میں ناکام رہا ہے۔ یہ ایک ایسا پہلو ہے جو خاص طور پر چین کے لیے بہت اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ بیجنگ مستقبل قریب میں تائیوان کے تناظر میں بالکل اسی نوعیت کے چیلنجز کا سامنا کر سکتا ہے۔اگر اس پورے بحران میں پاکستان ایک باضابطہ میزبان اور متحرک سہولت کار کے طور پر سامنے تھا، تو پسِ پردہ سفارت کاری کے مضبوط ستونوں میں چین کے ساتھ ساتھ ترکیہ، قطر اور عمان بھی بھرپور طریقے سے شامل تھے۔ فرق صرف اتنا تھا کہ جہاں پاکستان کا کردار ایک نمایاں سہولت کار کا تھا، وہیں ترکیہ کا کردار زیادہ تر خاموش، تہہ در تہہ اور بیک وقت کئی دائروں میں متحرک رہا۔ ترکیہ نے اس بحران کے آغاز ہی میں اپنی دو ترجیحات انتہائی واضح کر لی تھیں: اوّل، اس تصادم کو ایک مکمل علاقائی جنگ بننے سے روکا جائے۔ دوم، اس کا مرکز خلیجی صف بندی بننے کے بجائے واشنگٹن اور تہران کے درمیان محدود رکھا جائے۔ یہی وہ تزویراتی فریم ورک تھا جس کے اندر رہتے ہوئے ترک وزیرِ خارجہ حقان فیدان اور صدر رجب طیب اردوان کی سفارت کاری نے دن رات کام کیا۔یہاں سب سے اہم اور نمایاں حقیقت یہ ہے کہ حقان فیدان نے صرف دس دنوں کے قلیل عرصے میں 150 سے زیادہ ٹیلیفونک رابطے کیے۔ (جاری ہے)


© Daily 92 Roznama