دھرنے، احتجاج اور عوام ...
ملک میں ایک مرتبہ پھر دھرنوں، لانگ مارچوں، احتجاجوں اور سیاسی نعروں کا موسم ہے کوئی پیٹرولیم لیوی کے خلاف سڑک پر ہے، کوئی سیاسی مطالبات لے کر اسلام آباد کا رخ کرنا چاہتا ہے اور حکومت حسبِ روایت اپنی کارکردگی کا دفاع کر رہی ہے لیکن اس پوری تصویر میں اگر کوئی مسلسل پس رہا ہے تو وہ عام آدمی ہے۔حکومت اگر یہ سمجھتی ہے کہ چند اعلانات، عارضی ریلیف یا اعدادوشمار دکھا کر عوام کو مطمئن کیا جاسکتا ہے تو شاید وہ بازار، بجلی کے بل، پٹرول پمپ اور ایک متوسط گھرانے کے ماہانہ بجٹ سے بہت دور کھڑی ہے عام آدمی کے لیے معاشی کارکردگی کا معیار تقریریں نہیں بلکہ یہ ہے کہ مہینے کے آخر میں اس کی جیب میں کچھ بچتا بھی ہے یا نہیں مگر سوال صرف حکومت سے نہیں اپوزیشن سے بھی اتنا ہی سخت سوال ہونا چاہیے آپ کے پاس حل کیا ہے؟حافظ نعیم الرحمٰن پیٹرولیم لیوی کے خلاف آواز اٹھا رہے ہیں مہنگے پٹرول سے پریشان عوام یقیناً قیمتوں میں کمی چاہتے ہیں لیکن صرف یہ کہنا کافی نہیں کہ لیوی ختم کردی جائے۔پیٹرولیم لیوی سے قومی خزانے کو سالانہ کھربوں روپے حاصل ہوتے ہیں اگر اسے ختم یا بہت کم کردیا جائے تو اس رقم کا متبادل کہاں سے آئے گا؟ کیا دوسرے ٹیکس بڑھائے جائیں گے؟ کیا ترقیاتی اخراجات کم ہوں گے؟ کیا حکومتی اخراجات میں اتنی بڑی کمی ممکن ہے؟ کیا کوئی نیا ٹیکس لگے گا؟ یا مزید قرض لے کر یہ خلا پْر کیا جائے گا؟ اور اگر قرض بھی نہیں لینا، ٹیکس بھی نہیں بڑھانا اور خسارہ بھی نہیں بڑھانا تو پھر وہ مکمل حساب عوام کے سامنے رکھا جائے جس سے یہ رقم پوری ہوگی یہی وہ مقام ہے جہاں احتجاج کو نعرے سے آگے بڑھ کر معاشی پالیسی بننا پڑتا........
