menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

رعایا کے کشکول میں ...

19 0
previous day

تاریخ میں بیان کردہ کئی سفاک بادشاہوں کی طرح میرے اور آپ کے ووٹ سے اقتدار میں آنے کی دعوے دار حکومت ہم رعایا کو بھکاریوں کی طرح ذلیل وخوار کرنا شروع ہوگئی ہے۔ رواں ہفتے کے آغاز میں نہایت ہوشیاری سے ہمارے ذہنوں کو پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کے روزانہ تعین کو تیار کیا گیا۔ علم معاشیات کی ناقابل فہم اصطلاحات سے ہمیں یہ سمجھایا گیا کہ پٹرولیم مصنوعات کی ہر پندرہ دنوں کے بعد قیمتیں تعین کرنے کا رحجان صارف کو نہیں ذخیرہ اندوزوں کو فائدہ پہنچاتا ہے۔ عالمی منڈی کے رحجانات دیکھتے ہوئے ذخیرہ اندوز اوسط ضرورت سے کہیں زیادہ خام تیل درآمد کرلیتے ہیں۔ ساتھ ہی دیگر ممالک کی ریفائنریوں میں صاف کیا پٹرول بھی خرید کر تیل بردار جہازوں میں ہماری بندرگاہوں کے قریب کھڑا کردیا جاتا ہے۔ قیمتوں میں اضافہ ہوتے ہی ذخیرہ ہوا پٹرول اور ڈیزل بازار میں پھینک کر راتوں رات بے پناہ منافع کمالیا جاتا ہے۔دنیا بھر کو تیل اور گیس کا 20فی صد فراہم کرنے والے خلیجی ممالک اپنی برآمدات کے لئے ایران کے ساحلوں کو چھوتی آبنائے ہرمز پر انحصارکو مجبور ہیں۔کئی منڈیوں سے عالمی تجارت کے لئے کھلی رہی اس آبنائے کو مگر مارچ کے آغاز میں ایران اور اسرائیل کے حملے نے متنازعہ بنادیا۔ ایران دنیا کی واحد سپرطاقت کہلاتے ملک کے آگے سرنگوں ہونے کے بجائے مذکورہ حملے کی مزاحمت کی بدولت آبنائے ہرمز کی راہداری پر........

© Nawa-i-Waqt