سیاست میں الجھے لوگو، کچھ فکر عوام کی بھی
وطن عزیزکی سیاست بھی بڑی دلچسپ ہے خیبر پختونخوا میں حزب اختلاف حکومت کو مشورے دے رہی ہے کہ وزیراعلیٰ انا، شخصیت اور سیاست سے بالاتر ہو کر صوبے میں قیام امن کے لئے وزیر اعظم سے فون پر رابطہ کر لیں، قومی اسمبلی میں تحریک انصاف کی جانب سے ایثار کا مظاہرہ کر کے محمود خان اچکزئی کو قائد اختلاف مقرر کرنے کے بعد منصب سنبھالتے ہی پہلی تقریر میں انہوں نے حکومت کا مشروط طور پر ساتھ دینے کا عندیہ دیا جبکہ سینیٹ میں بھی اسی ایثار کے جذبے کے تحت تحریک انصاف کی بجائے ان کی اتحادی جماعت کے رہنما قائد حزب اختلاف مقرر ہوتے ہیں، ایسے میں عملی طور پر خود تحریک انصاف خود اپنے انتخاب پر اہم پارلیمانی قیادت کی نشستوں سے محروم ہو گئی ہے۔
خیبر پختونخوا اسمبلی میں وزیر اعظم سے رابطے کی تجویز مسترد کر دی گئی جبکہ اچکزئی حکومت سے مفاہمت اختیار کرنے کا اعلان کر رہے ہیں، واضح رہے کہ بانی قائد کی وزارت عظمیٰ کے عہدے سے ہٹانے کے حق میں ووٹ دینے والوں میں محمود خان اچکزئی بھی شامل تھے۔
صوبائی اسمبلی میں بحث کا جائزہ لیں تو بھی دلچسپی کی حامل تفصیلات اور تضادات نظر آئیں گی، خیبرپختونخوا........
