کون کیا ہے؟ سب کو پتا ہے
پی ٹی آئی کے سیکریٹری اطلاعات شیخ وقاص اکرم کا موقف ہے کہ پیپلز پارٹی سے اتحاد ممکن نہیں اور اس حوالے سے بانی پی ٹی آئی کی ہدایت بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پیپلز پارٹی حکومت سے ہر چیز میں حصہ مانگ رہی ہے۔ الیکشن کے موقع پر (ن) لیگ اور پی پی ایک دوسرے پر تنقید کرتی ہیں اور بعد میں اتحادی بن جاتی ہیں۔
ہر سیاسی پارٹی کے متعلق سب کو پتا ہے کہ وہ نظریاتی، جمہوری اور ملک اور عوام کے مفاد کے لیے نہیں بلکہ سیاسی، مالی اور ذاتی مفادات کے لیے کام کرتی ہے اور تمام سیاسی پارٹیاں زیادہ سے زیادہ اقتدار اور سیاسی مفادات کے حصول کے لیے کوشاں رہتی ہیں۔
ن لیگ اور پیپلز پارٹی میں اختلافات آج بھی موجود ہیں جس کا ایک اور ثبوت قومی اسمبلی میں حکومت کے چودہ قوانین کی منظوری نہ ہونا ہے جس کی منظوری موخر کر دی گئی ہے اور قومی اسمبلی کے اسپیکر نے وفاقی وزیر کی درخواست پر منظوری روک دی ہے جس کے بعد دونوں پارٹیوں میں بات چیت جاری ہے ،کوئی متفقہ فیصلہ ہوا تو قوانین منظور ہو جائیں گے مگر دونوں پارٹیاں عوام کو درپیش مسائل خصوصاً مہنگائی، پٹرولیم لیوی ختم کرنے اور بجلی و گیس سے جبری ٹیکسوں، خصوصاً فکسڈ چارجز ہی کے خاتمے پر کوئی توجہ نہیں دے رہیں۔
پی پی اور (ن) لیگ 1988 سے 1999 تک ایک دوسرے کی مخالفانہ سیاست کرتی رہیں اور........
