آنے والے کل کا پاکستان
کبھی بیٹھ کر یہ سوال کرنا چاہیے کہ ہم اپنے بچوں کے لیے کیسا ملک چھوڑ کر جائیں گے۔ ایک ایسا ملک جہاں عمارتیں بلند ہوتی جائیں مگر انسان چھوٹا ہوتا جائے، جہاں سڑکیں چوڑی ہوں مگر غریب کے گھر تک جانے والا راستہ تنگ ہو، جہاں دولت کے انبار بڑھتے رہیں، مگر کروڑوں لوگوں کے لیے دو وقت کی روٹی، علاج اور تعلیم بس ایک خواب ہو۔
قومیں صرف اپنے ماضی سے نہیں بنتیں ، اپنے مستقبل کے تصور سے بھی بنتی ہیں، ہر نسل آنے والی نسل کے لیے کچھ نہ کچھ چھوڑ کر جاتی ہے۔ کوئی علم چھوڑتی ہے، کوئی آزادی کوئی انصاف، کوئی خوشحالی اور کوئی ایسا نظام جس میں انسان اپنی پوری صلاحیت کے ساتھ زندگی گزار سکے، ہمیں اپنے گریبان میں جھانک کر دیکھنا ہوگا کہ ہم کیا چھوڑ کر جائیں گے۔
پاکستان جب بنا تو لوگوں نے کچھ خواب دیکھے تھے ۔ ان خوابوں میں صرف ایک جغرافیائی خطہ نہیں تھا بلکہ ایک بہتر زندگی کی امید بھی تھی، مگر آزادی کے اتنے برس بعد بھی ہماری اکثریت بنیادی سہولتوں کے لیے ترستی ہے۔ ایک طرف چند خاندانوں، گروہوں اور طبقوں کے پاس دولت، زمین ،اختیار اور مواقع کے بے پناہ وسائل ہیں اور دوسری طرف مزدور کسان کم آمدنی والے ملازمین اور غریب گھرانے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ صرف زندہ رہنے کی جدوجہد میں گزار دیتے ہیں۔
ہم نے ترقی کا مطلب بھی عجیب بنا لیا ہے۔ ایک نئی سڑک بن جائے، چند بلند عمارتیں کھڑی ہوجائیں، کسی شہر میں ایک نیا شاپنگ مال کھل جائے تو ہم اسے ترقی کہنے لگتے ہیں، لیکن ترقی کا اصل پیمانہ یہ نہیں کہ شہر میں کتنی گاڑیاں........
