دنیا بھر میں بڑھتے ہوئے امیر، غریب!
انیسویں صدی میں کارل مارکس نے سرمایہ داری کے بارے میں سوال اٹھایا تھا کہ اگر دولت مسلسل چند ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی تو کیا ایک دن ایسا نہیں آئے گا جب امیر مزید امیر اور غریب مزید غریب ہو جائے گا؟ عالمی رپورٹس کے مطابق دنیا میں ارب پتیوں کی تعداد تین ہزار سے تجاوز کر چکی ہے، جو تاریخ کی بلند ترین سطح ہے۔ بعض تخمینوں کے مطابق صرف 2025 میں ارب پتیوں کی مجموعی دولت میں 16 فیصد سے زیادہ اضافہ ہوا، جب کہ 2020 کے بعد سے ان کی دولت میں تقریباً 81 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔آج بھی دنیا کی تقریباً نصف آبادی محدود وسائل میں زندگی گزار رہی ہے۔
امریکا اس تضاد کی سب سے واضح مثال ہے۔ دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہونے کے باوجود وہاں لاکھوں افراد غربت کی لکیر سے نیچے زندگی بسر کر رہے ہیں۔ چین کا تجربہ ایک الگ حقیقت سامنے لاتا ہے۔ ایک طرف اس نے دنیا کی تاریخ میں غربت کے خاتمے کی سب سے بڑی کامیابی حاصل کی اور کروڑوں افراد کو متوسط طبقے میں شامل کیا، لیکن دوسری طرف اسی معاشی ترقی نے بے پناہ دولت رکھنے والے ایک نئے طبقے کو بھی جنم دیا۔ یہی وجہ ہے کہ آج چین کی حکومت معاشی ترقی کے ساتھ ساتھ دولت کی نسبتاً منصفانہ تقسیم کو بھی اپنی پالیسی کا اہم ہدف قرار دے رہی ہے۔
بھارت میں بھی معاشی ترقی نے نئی........
