درباری شاعر عطا ٹھٹوی
عطا اس بھوک سوں ہم لوگ رہنا
زخردن ساگ لونی سوک رہنا
بقول ایک لکھاری کے شاعر ملا عبدالحکیم ’’عطا ٹھٹوی‘‘ کے اس شعر کا مطلب ہے کہ ہم حکمران طبقات سے نہیں جڑیں گے۔ ہم مراعات یافتہ طبقات کے ساتھ نہیں جڑیں گے۔ ہم کو بھوک میں رہنا اچھا لگتا ہے بھلے ساگ اور قلفہ ہی کیوں نہ کھانا پڑے۔
ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’’اب آپ شعور کا لیول دیکھیں۔ اس زمانے کی ترقی پسندی کا لیول دیکھیں، یعنی اپنے ضمیر کے ساتھ اور وقار کے ساتھ ساگ والی روٹی کھائیں گے۔‘‘ یہ ان مقالہ نویس کے اصلی الفاظ ہیں۔ اب ظاہر ہے کہ سامعین میں سے کسی ایک کو بھی شاید شاعر عطا ٹھٹوی کے سماج دشمن کردار کا علم نہ تھا اور وہ نہ ہی عطا ٹھٹوی نام کے کسی شاعر کو جانتے تھے۔
میرا خیال ہے کہ لکھاری کو اگر یہ سب ترقی پسندی، شعور، وقار اور ضمیر کی لیول لگتی ہے تو پھر تو یہی ہوا کہ عطا ٹھٹوی بھوکا مر رہا تھا مگر اس کے باوجود یہ بھوکا شخص حکمرانوں کی چاپلوسی کیوں........
