menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

یہ نفس امارہ!

9 0
latest

ابھی ابھی ہم نے عید قربان گزاری ہے جو ہمیں یہ سبق دیتی ہے کہ جب اللہ کی راہ میں کچھ قربا ن کرنے کا وقت آئے تو اپنی ضرورت، خواہش اور ضد سے بالکل ہٹ کر ہی ایسا ممکن ہے۔ ہم نے قربانی کو یہ سمجھ لیا کہ ایک جانور قربان کرنا ہے، ذرا شو شا کا شوق ہے تو ایک سے زائد کردیں اور اگر آپ چاہتے ہیں کہ لوگ آپ کے اعزاز میں کھڑے ہو کر تالیاں بجائیں تو آپ ایک پوری گائے یا سات بکرے قربان کر دیں، لوگوں میں واہ واہ ہو جائے گی، اور بہت سے لوگوں کو کھانے کو گوشت مل جائے گا اور وہ آپ کو دعائیں دیں گے۔

سوال یہ ہے کہ کیا قربانی کا مطلب وہی ہے جو ہم عام طور پر سمجھتے ہیں؟ کیا قربانی سال میں صرف عید کے موقع پر ہی دینا ہوتی ہے؟ کیا ہم نے سال کے باقی دنوں میں بھی قربانی کا سوچا ہے؟

دولت وہ پہلی چیز ہے جسے قربان کرنا چاہیے، فطرت ہے کہ جس کے پاس ستر روپے ہوں گے وہ خواہش پالے گا کہ اسے تیس اور مل جائیں تو اس کے پاس سو ہو جائے گا، دس بیس خرچ کرنے کا کوئی نہیں سوچے گا۔ دولت جب ہم اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں، زکوٰۃ اور صدقہ کی نیت سے تو اس سے کئی لوگوں کی ضرورتیں پوری ہوتی ہیں، ان کے رکے ہوئے کام ہوجاتے ہیں۔

ان کی بیماری اورتکلیف کا علاج ہو جاتا ہے اور ہم نے یہ دولت کون سا خود بنائی ہے، ہمیں بھی تو اللہ نے ہی دیا ہے اور اسی میں سے ہم اس کے نام پر کچھ قربان کردیں تو اسے ہماری یہ ادا پسند آتی ہے۔ وہ کسی کا ادھار کہاں رکھتا ہے، دیے ہوئے کو........

© Express News