نئے صوبوں کا قیام ؛ کیا ایڈمنسٹریشن میں بہتری کی گارنٹی ہے؟
نئے صوبے بنانے کی بحث پاکستان بننے کے ساتھ ہی شروع ہو گئی تھی اور آج تک چلتی آ رہی ہے۔ کبھی ون یونٹ ، کبھی ’ون یونٹ کی واپسی‘ اور کبھی پنجاب کی 3 حصوں میں تقسیم تو کبھی سندھ کی۔
یہ موضوع دوبارہ بحث کا موضوع تب بنا جب جب کچھ سیاسی اور کچھ غیر سیاسی صاحب منصب لوگوں کی اس پر بات ہوئی کہ نظام کو بدلنے کی ضرورت ہے۔
لیکن سوال یہ ہے کہ ایسا کیوں لگا؟ اتنا بڑا فیصلہ صرف اس بات پر کیا جائے گا کہ انڈیا کی ریاستیں 28 ہو گئیں جو کہ 1947 سے دو گنا ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ ہریانہ کا پنجاب سے نکلنا، اترا کھنڈ اور تلنگانہ کا قیام اس کی مثالیں ہیں، لیکن کیا بھارت اور پاکستان میں ریاستوں کو تقسیم کرنے کی بنیاد ایک ہے؟ کیا انڈیا میں یہ تقسیم زیادہ آبادی کی بنیاد پر تھی یا کچھ اور محرکات تھے؟
اگر آپ آبادی کی بات کریں گے تو یو پی جس کی آبادی پاکستان کے برابر ہے، اس کو کیوں تقسیم نہیں کیا گیا؟ مغربی بنگال جس کی آبادی 10 کروڑسے زیادہ ہے، وہ بھی تقسیم نہ ہوئی ابھی تک۔ اگر انڈیا میں دیکھیں تو یہ تقسیم زبان، شناخت اور دیگر محرکات کی بنیاد پر تھی اور اسی وجہ سے اب بھی وہاں بڑی ریاستیں موجود ہیں۔
اس کے علاوہ ترکی کی مثال ہے کہ ساڑھے 8 کروڑ آبادی کے لیے 81 صوبے ہیں- اس کی بھی آخری تقسیم 1999 میں ہوئی اور یہ بھی ایسے ہی ہے کہ........
