عوام کی نبض سمجھیں
ہمارے ملک میں آنے والی ہر حکومت اقتدار سے پہلے عوام کے سارے دکھ درد سمجھتی ہے اور اپنے آپ کو یوں ظاہر کرتی ہے کہ اس سے زیادہ عوام کا ہمدرد کوئی اور نہیں ہے اور اپوزیشن کے دور میں وہ حکومت وقت کے ہر اس کام پر تنقید کرتی ہے جس سے عوام پر معاشی بوجھ پڑے یا عوام کو زرا سی بھی تکلیف پہنچے۔
حکومت وقت پیٹرول کے ریٹ بڑھائے یا بجلی اورگیس کے، اپوزیشن جماعتیں دھڑا دھڑ عوام کے حق میں بیانات داغتی ہیں اور حکومت کو اس کے اقدامات واپس لینے کے لیے جلسے جلوس اور دھرنے تک دیتی ہیں، لیکن جب اپوزیشن کی یہ جماعتیں حکومت سنبھالتی ہیں تو اگلے دن ہی آنکھیں ماتھے پر رکھ لیتی ہیں اور عوام کو پہچاننے ہی سے انکاری ہو جاتی ہیں اور ان کے دکھ درد بھی ایسے ہی بھول جاتی ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
حکومت میں آکر وہ تمام وہی کام کرتی ہیں جن کی مخالفت وہ اپوزیشن میں ہوتے ہوئے کرتے رہے ہوتے ہیں۔ حکومت میں آکر ان کو معلوم ہوتا ہے کہ انہوں نے مقبول نہیں بلکہ مضبوط فیصلے کرنے ہیں اور وہ مضبوط فیصلے وہی ہوتے ہیں جن سے عوام کے فائدے کا کچھ لینا دینا نہیں ہوتا ہے بلکہ ان کا مزید ستیا ناس ہوتا ہے۔
موجودہ حکومت کو برسراقتدار آئے ہوئے ڈھائی سال کا عرصہ ہو چلا ہے ۔وفاقی اور پنجاب کی صوبائی حکومت اس وقت اپنی کارکردگی پر بہت خوش اور نازاں ہے اور اس کی دلیل کے طور پر وہ بے شمار منصوبے گنواتی ہے، جن کا آغاز اُس نے کیا اور تیزی سے تکمیل کے مراحل کی جانب گامزن ہیں۔
بلا شبہ ان منصوبوں کے دور رس نتائج سامنے آئیں گے مگر عوام ماضی اور مستقبل کے بجائے اپنے حال کو درست کرنے........
