menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

تحریک پاکستان میں مولانا محمد علی جوہر کی خدمات

24 0
17.08.2026

برصغیر پاک و ہند کی تاریخ آزادی محض سیاسی جلسوں، قراردادوں اور انتخابی معرکوں کی تاریخ نہیں؛ یہ دراصل ایک ایسی طویل فکری، تہذیبی، سیاسی اور اخلاقی جدوجہد کی داستان ہے جس میں قلم کاروں، علماء، سیاسی رہنماؤں، صحافیوں، شعراء اور عوامی قائدین نے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کیا۔ 

اس تاریخ میں اگر کسی شخصیت نے قلم، زبان، سیاست، صحافت اور قربانی کو بیک وقت آزادی کے مقصد کے لیے استعمال کیا تو ان میں مولانا محمد علی جوہرؒ کا نام نمایاں حیثیت رکھتا ہے۔

مولانا محمد علی جوہر صرف ایک سیاسی رہنما نہیں تھے۔ وہ ایک صحافی، خطیب، شاعر، مفکر، تعلیمی رہنما اور آزادی کے ایسے بے باک سپاہی تھے جن کے نزدیک غلامی صرف سیاسی مسئلہ نہیں بلکہ انسانی عزت، دینی تشخص اور قومی خودداری کا مسئلہ بھی تھی۔ ان کی زندگی اس حقیقت کی گواہی دیتی ہے کہ قومیں صرف تلوار سے آزاد نہیں ہوتیں؛ بعض اوقات ایک قلم، ایک اخبار، ایک تقریر اور ایک بے خوف آواز بھی سامراجی سلطنتوں کی بنیادیں ہلا دیتی ہے۔

10 دسمبر 1878 کو رام پور میں پیدا ہونے والے مولانا محمد علی جوہر نے علی گڑھ اور بعد ازاں لنکن کالج آکسفورڈ سے تعلیم حاصل کی۔ برصغیر واپس آنے کے بعد انہوں نے سرکاری ملازمت بھی اختیار کی، مگر جلد ہی انہیں احساس ہوگیا کہ ان کی اصل منزل اقتدار کے ایوانوں میں ملازمت کرنا نہیں بلکہ اپنی قوم کے سیاسی اور فکری مستقبل کی تعمیر ہے۔ چنانچہ انہوں نے صحافت، سیاست اور قومی جدوجہد کو اپنا میدان بنایا۔ 4 جنوری 1931 کو لندن میں ان کا انتقال ہوا اور ان کی وصیت کے مطابق انہیں بیت المقدس میں سپردِ خاک کیا گیا۔ پاکستانی سرکاری ذرائع انہیں تحریکِ پاکستان کے اہم رہنماؤں، صحافی اور شاعر کے طور پر یاد کرتے ہیں۔

یہ سوال آج بھی اہم ہے کہ رام پور میں پیدا ہونے والا ایک شخص برصغیر کے مسلمانوں کی اتنی بڑی آواز کیسے بن گیا؟ اس کا جواب مولانا جوہر کی شخصیت کے کئی پہلوؤں میں پوشیدہ ہے۔ وہ صرف حالات پر تبصرہ نہیں کرتے تھے بلکہ حالات کو بدلنے کی کوشش کرتے تھے۔ وہ صرف غلامی کی شکایت........

© Express News (Blog)