طبی آزمائش کا نیا افق
ہم کسی نئی دوا کی گولی نگلتے ہوئے شاید ہی کبھی یہ سوچتے ہیں کہ یہ چھوٹی سی گولی ہمارے ہاتھ تک پہنچنے سے پہلے کتنے سوالات سے گزری ہوگی۔ کیا یہ واقعی بیماری کا علاج کرتی ہے؟ کتنی مقدار مؤثر ہے؟ اس کے کیا نقصانات ہیں؟ کن مریضوں کے لیے خطرناک ہو سکتی ہے؟ اور سب سے اہم سوال یہ کہ اگر اسے لاکھوں لوگوں کو دیا جائے تو کیا ہمیں یقین ہے کہ اس کے فائدے اس کے نقصانات سے زیادہ ہیں؟ یہ یقین ہمیں کیسے ملا؟
ان سوالات کے جواب کے لیے آج کی دنیا نے کلینیکل ٹرائلز کا ایک سخت نظام بنایا ہوا ہے۔ نئی دوا پہلے محدود تعداد میں انسانوں تک پہنچی، پھر زیادہ مریضوں پر آزمائی گئی اور آخرکار بڑے مطالعات کے ذریعے اس کی افادیت اور حفاظت کا جائزہ لیا گیا۔ یہ نظام طب کی تاریخ کی بڑی کامیابیوں میں سے ایک ہے، لیکن اب اس کے اندر ایک خاموش مگر اہم تبدیلی آرہی ہے۔
امریکی ایف ڈی اے کلینیکل ڈیولپمنٹ کے بعض روایتی تقاضوں کو کم کرنے، کچھ مطالعات کو مختصر کرنے اور جدید سائنسی طریقوں کو زیادہ اہمیت دینے کی طرف بڑھ رہی ہے۔ برطانیہ، یورپ اور چین بھی اپنے اپنے انداز میں اسی سمت میں اصلاحات کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ کیا دنیا ادویات کو کم ثبوت پر منظور کرنے جا رہی ہے؟ ایسا نہیں۔ اصل کہانی اس سے زیادہ دلچسپ ہے۔ دنیا کم ثبوت کی طرف نہیں، بلکہ زیادہ موزوں ثبوت کی طرف بڑھ رہی ہے۔
سوچیے، ہر دوا کی افادیت ناپنے کے لیے ایک ہی پیمانہ کیوں؟ ہم نے برسوں تک کلینیکل ریسرچ کو ایک نسبتاً مقررہ راستے سے دیکھا: فیز ون، فیز ٹو، فیز تھری اور پھر منظوری۔ یہ نظام آج بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے، مگر اب سوال یہ ابھر رہا ہے کہ کیا ہر بیماری، ہر دوا اور ہر مریض کے لیے ایک ہی سائز کا ٹرائل ضروری ہے؟
فرض کیجیے ایک بیماری دنیا میں صرف چند سو افراد کو لاحق ہے۔ بیماری خطرناک ہے، مریض انتہائی کم ہیں اور کوئی مؤثر علاج موجود نہیں۔ اگر ریگولیٹر اسی بیماری کے لیے بھی وہی ہزاروں مریضوں والی تحقیق مانگے جو عام بیماری کے لیے ممکن ہے تو مسئلہ یہ ہوگا کہ مطلوبہ تعداد میں مریض موجود ہی نہیں۔ کیا ایسی صورت میں علاج کی تحقیق روک دی جائے؟ یہیں جدید ریگولیٹری سائنس ایک مختلف راستہ اختیار کر رہی ہے۔
ایف ڈی اے نے واضح کیا ہے کہ بعض حالات میں ایک مضبوط، مناسب اور اچھی طرح ڈیزائن کیا گیا کلینیکل مطالعہ افادیت کے ثبوت میں مرکزی کردار ادا کرسکتا ہے، اگر اس کے نتائج کی تائید دوسرے قابلِ اعتماد شواہد سے ہو۔ یعنی ایک ٹرائل کافی ہے کہنا درست نہیں۔ درست بات یہ ہے کہ ایک مضبوط ٹرائل اور دوسرے معتبر سائنسی شواہد مل کر وہ ثبوت فراہم کرسکتے ہیں جو کسی مخصوص بیماری میں روایتی بڑے ٹرائل سے حاصل کیے جاتے تھے۔
یہ........
