menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

مہنگا پٹرول، جنگی بحران، لاک ڈاؤن نما پابندیاں اور عوام کی خاموش چیخ

22 0
14.05.2026

دنیا میں جب بھی جنگ چھڑتی ہے تو عام طور پر اس کے اثرات تین ملکوں پر پڑتے ہیں، دو وہ جو جنگ لڑ رہے ہوتے ہیں، اور تیسرا پاکستان۔ یہ جملہ بظاہر طنز ہے، مگر پاکستان کے معاشی حالات دیکھے جائیں تو یہ طنز نہیں، ایک تلخ قومی حقیقت محسوس ہوتی ہے۔

پاکستان نہ ہر جنگ کا فریق ہوتا ہے، نہ ہر عالمی بحران کا ذمے دار، لیکن ہر عالمی بحران کے بعد سب سے پہلے پاکستانی عوام کی جیب کا امتحان شروع ہو جاتا ہے۔ کبھی پٹرول مہنگا، کبھی بجلی مہنگی، کبھی گیس مہنگی، کبھی ٹرانسپورٹ کے کرائے بڑھ جاتے ہیں، اور کبھی دال، آٹا، سبزی اور دودھ تک عام آدمی کی پہنچ سے دور ہونے لگتے ہیں۔

حالیہ دنوں میں پاکستان میں پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں ایک بار پھر عوامی بحث کا مرکز بن چکی ہیں۔ یہ صرف ایک عدد نہیں؛ یہ اس مزدور کا کرایہ ہے جو روزانہ کام پر جاتا ہے، اس طالب علم کی بس فیس ہے جو یونیورسٹی پہنچتا ہے، اس چھوٹے دکاندار کا خرچ ہے جو مال منڈی سے لاتا ہے، اور اس کسان کی لاگت ہے جو ڈیزل سے ٹیوب ویل اور ٹریکٹر چلاتا ہے۔ 

حکومتیں عموماً یہ کہہ کر قیمتیں بڑھاتی ہیں کہ عالمی منڈی میں تیل مہنگا ہوگیا ہے۔ یہ بات مکمل طور پر غلط بھی نہیں، کیونکہ پاکستان اپنی توانائی کی ضروریات کا بڑا حصہ درآمدی ایندھن سے پورا کرتا ہے۔ اس لیے عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت، ڈالر کا ریٹ، فریٹ چارجز، انشورنس لاگت اور جغرافیائی کشیدگی براہِ راست پاکستانی معیشت پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ مگر عوام کا سوال یہ ہے کہ جب عالمی منڈی میں قیمت کم ہوتی ہے تو فائدہ عوام تک مکمل کیوں نہیں پہنچتا؟ اور جب قیمت بڑھتی ہے تو بوجھ فوراً عوام پر کیوں ڈال دیا جاتا ہے؟

پاکستان کا مسئلہ صرف عالمی تیل نہیں، بلکہ اندرونی معاشی کمزوری بھی ہے۔ جب کوئی ملک توانائی کے لیے باہر کی طرف دیکھتا........

© Express News (Blog)