مہاجر پرندوں کا عالمی دن
دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ہر سال 9 مئی اور 10 اکتوبر کو مہاجر پرندوں کا عالمی دن منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں یہ دن ایسے وقت میں منایا جا رہا ہے جب ماہرین ماحولیات، عالمی ادارے اور محکمہ وائلڈ لائف مہاجر پرندوں کی تیزی سے کم ہوتی تعداد، خشک ہوتی آبی گزرگاہوں، ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کو ایک سنگین ماحولیاتی بحران قرار دے رہے ہیں۔
پنجاب، جو کبھی لاکھوں مہاجر پرندوں کی محفوظ پناہ گاہ سمجھا جاتا تھا، اب پانی کی قلت، اسموگ، غیر قانونی شکار اور ویٹ لینڈز کی تباہی کے باعث ان پرندوں کے لیے خطرناک خطہ بنتا جا رہا ہے۔
پنجاب یونیورسٹی کے شعبہ حیاتیات کے سربراہ اور ماہر ماحولیات ڈاکٹر ذوالفقار علی کہتے ہیں کہ پاکستان دنیا کے سات بڑے فلائی وے روٹس میں شامل فلائی وے نمبر چار پر واقع ہے جسے گرین روٹ بھی کہا جاتا ہے جہاں سے ہر سال لاکھوں مہاجر پرندے خنجراب، پشاور، کوئٹہ اور ایرانی سرحدی راستوں سے داخل ہوتے ہیں۔
ان کے مطابق پاکستان میں تقریباً 225 ویٹ لینڈز موجود ہیں جن میں 19 عالمی سطح پر تسلیم شدہ رامسر سائٹس ہیں پنجاب کی نمایاں رامسر سائٹس میں ہیڈ مرالہ، تونسہ بیراج وائلڈ لائف سینکچری، اوچھالی ویٹ لینڈ کمپلیکس اور سالٹ رینج ویٹ لینڈز شامل ہیں۔ ان علاقوں میں قدرتی جھیلیں، دلدلی علاقے، دریائی کنارے اور آبی ذخائر موجود ہیں جہاں سردیوں کے موسم میں سائبیریا، وسطی ایشیا اور دیگر خطوں سے مہاجر پرندے پہنچتے........
