سوشل میڈیا کے بریڈمین
’’ بھائی میں آپ کو کیا بتاؤں جب ٹویٹر اور فیس بک دیکھوں تو مجھے لگتا ہے کہ میں نے تو کرکٹ میں کچھ کیا ہی نہیں، میں دنیا کا سب سے خراب کھلاڑی ہوں، ایسے ایسے لوگ مجھے برابھلا کہہ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھ کر خون کھول اٹھتا ہے، ایجنٹ کو اپنا پاس ورڈ دیں تو نسیم شاہ کے ساتھ جو ہوا ویسی کسی غلطی کا ڈر رہتا ہے، ایسے میں یہی سوچا ہے کہ اب سوشل میڈیا کا استعمال نہیں کرؤں گا، مجھ سے یہ سب کچھ برداشت نہیں ہوتا، اس کا اثر میری کارکردگی پر پڑ رہا ہے‘‘
مجھ سے یہ باتیں کچھ عرصے قبل ایک کرکٹر نے کی تھیں، یہ صرف ایک کیس نہیں اور بھی بڑی مثالیں موجود ہوں گی، کرکٹ سے جڑی کئی اہم شخصیات سے میری دوستی ہے، وہ بھی ایسی باتیں کرتے ہیں، سوشل میڈیا میں بڑی طاقت ہے، چیچہ وطنی میں بیٹھا کوئی شخص بھی ایک ٹویٹ سے آپ کا موڈ خراب کر سکتا ہے۔
اس زمانے میں آپ ایسی ایپس سیالگ بھی نہیں رہ سکتے لیکن خود پر قابو رکھنا ضروری ہے، میں بھی سوشل میڈیا سے دور رہتا تھا لیکن جب نجم سیٹھی چیئرمین بنے تو صحافیوں کے کام کا پیمانہ فالوورز سے کیا جانے لگا، میں نے یہ بات سمجھ لی اور اس حوالے سے بھی کام کیا ، البتہ اس کا اثر آپ پر پڑتا ضرور ہے۔
ایک ساتھی کو چند سال قبل ٹویٹر پر کسی نے کچھ کہا تو انھوں نے ایسی گالیاں لکھیں کہ کیا بتاؤں لیکن پھر میں نے انھیں سمجھایا کہ اس بندے کا مقصد ہی آپ کو غصہ........
