menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Women University

25 0
29.04.2026

ترقی یافتہ قومیں اپنے لیے جو ترجیحات طے کرتی ہیں، ان میں سڑکوں اور میٹرو بسوں وغیرہ کی اہمیّت ضرور ہے مگر سب سے بڑی ترجیح نہیں ہے۔ ان کی ترجیحِ اوّل تعلیم اور ہنر (knowledge skill) ہے۔ کئی بار لکھ چکا ہوں کہ ہمارے زوال کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ ہم نہ تعلیم کو اہمیّت دیتے ہیں اور نہ معلّم کو عزّت دیتے ہیں۔ وہ قومیں جو تعلیم کو سب سے زیادہ اہمیّت اور استاد کو سب سے زیادہ عزّت دیتی ہیں، وہ آج دنیا کی Leading nations ہیں اور اس کرۂ ارض کی قیادت کا تاج انھی کے سر پر ہے۔

ڈاکٹر شازیہ بشیر جب جی سی یونیورسٹی لاہور کی وائس چانسلر تھیں تو ان سے پہلی ملاقات میں ہی اندازہ ہوگیا کہ فکرِ اقبالؒ کی علمبردار اور نوجوانوں کی کردار سازی کے جذبوں سے سرشار ہیں۔ کافی عرصے کے بعد درسگاہِ اقبالؒ کو ایسی سربراہ میّسر آئی تھیں، جس کی اس عظیم درسگاہ کو ضرورت تھی۔

ان کی غیر معمولی انتظامی صلاحیّتوں کے پیشِ نظر انھیں وسطی پنجاب میں خواتین کی سب سے بڑی یونیورسٹی کی وائس چانسلر مقرّر کیا گیا تو انھوں نے ایک قلیل عرصے میں ہی گورنمنٹ ویمن یونیورسٹی سیالکوٹ میں بھی اپنی صلاحیّتوں کے نقش ثبت کردیے۔

ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ چیف منسٹر پنجاب (جو خود ایک تعلیم یافتہ اور Forward Looking خاتون ہیں) کی ترجیحِ اوّل تعلیم ہوتی، وہ ہر دو مہینے کے بعد وائس چانسلرز کو اپنے دفتر بلا کر ان کے ساتھ ون آن ون (بیوروکریٹوں کی عدم موجودگی میں) میٹنگ کیا کرتیں، ان سے مسائل پوچھتیں، تعلیمی میدان میں ترقی اور سرفرازی کے لیے ان سے مشورے اور تجاویز لیتیں اور ان پر عملدرآمد کرتیں۔ مگر لگتا یوں ہے کہ نظام میں اب بھی صدیوں پرانی فرسودگی حاوی ہے اور تعلیمی ماہرین کی بجائے بیوروکریٹوں کی رائے کو فوقیت دی جاتی ہے۔

حکومت پنجاب سے تو توقع تھی کہ آکسفورڈ، کیمرج اور........

© Daily Urdu