menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Natamam (1)

20 0
wednesday

آغا شورش کا شمیری کے بعد اگر کسی صحافی نے سب سے جاندار نثر لکھی ہے تو وہ ہارون الرشید ہیں۔ جب وہ سیاست کی دلدل میں ابھی پوری طرح نہیں اترے تھے، اُس وقت ان کے کالم پڑھنا ایک ٹریٹ ہوتی تھی، کچھ کالم پڑھ کر دل سے بے ساختہ داد نکلتی اور کچھ تحریریں پڑھ کر تو روح تک جھوم اٹھتی تھی۔

ان کے تجزئیے سے اختلاف کیا جاسکتا ہے مگر وہ کالموں اور ٹی وی پروگراموں میں بڑی واضح اور دوٹوک بات کرتے تھے۔ ہمارے ملک کی سیاست کے رنگ نرالے ہیں، نہ سمجھنے کے نہ سمجھانے کے، ہارون صاحب کبھی مقتدر حلقوں کے بہت قریب سمجھے جاتے تھے مگر آج نہیں۔ کیا اس میں نوجوان لکھاریوں کے لیے یہ سبق کافی نہیں۔

کئی ماہ پہلے ہارون صاحب نے فون پر کتاب کے بارے میں بتایا اور پھر ان کی کتاب ناتمام، موصول ہوگئی، جو اِن کے منتخب کالموں کا مجموعہ ہے۔ انھوں نے ہم تینوں بھائیوں (اس وقت بڑے بھائی جان۔ جج صاحب حیات تھے) کے لیے کتاب کا ایک ایک نسخہ بھیجا۔ اس وقت بھی یہی ارادہ تھا کہ اچھی طرح فارغ ہوکر پڑھوں گا کیونکہ میں ان کی نثر سے پوری طرح لطف اندوز ہونا چاہتا تھا۔

اب کچھ اہم کاموں سے فرصت ملی ہے تو ان کی تحریریں پڑھ رہا ہوں اور واقعی لطف اٹھارہا ہوں۔ ان کے بیٹے بلال الرشید کا یہ کارنامہ قابلِ تحسین ہے کہ اس نے والد کے بیاسی منتخب کالم جمع کرکے چھپوا دیئے ہیں۔ بیٹے سے بہتر مصنف کا تعارف کون کراسکتا ہے۔ پیش لفظ میں لکھتا ہے "بے پناہ عسرت میں ہوش سنبھالنے والا ایک لڑکا جو غیر معمولی ذہن رکھتا تھا، اوّل روز سے بقاء کی خوفناک جنگ اسے درپیش تھی۔

نامساعد معاشی حالات میں تعلیم ادھوری چھوڑ کر کوچۂ صحافت میں اس وقت قدم رکھا جب پورا خاندان اس فیصلے پر ناراض تھا، وہ اپنے فرزند کو چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ بنانا چاہتے تھے، اگر وہ یہ بات مان لیتے تو پاکستانی صحافت اس شخص سے محروم رہتی جس کا نام ہارون الرشید ہے۔ "بیٹے کی یہ بات بھی درست ہے کہ "عمران خان کو میرے والد صاحب نے کوچۂ سیاست میں اترنے پر قائل........

© Daily Urdu