menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Munazra, Dalail Aur Shawahid (4)

18 3
21.01.2026

انتہائی پاکیزہ کردار کا حامل انتہائی سچا اور حق گو انسان چالیس سال تک اپنی چھوٹی سی بستی مکّہ میں عام لوگوں جیسی زندگی گذارتا رہا اور عام لوگوں جیسی باتیں کرتا رہا۔ مگر اچانک ایک روز اس نے بستی کے لوگوں کو یہ بتا کر حیران کردیا کہ "زمین وآسمان کو ایک عظیم الشان ہستی نے تخلیق کیا ہے، وہ پوری کائنات کا خالق بھی ہے اور کنٹرولر بھی ہے۔

خالق انسانوں کو تخلیق کرکے ان سے بے نیاز ہو کر نہیں بیٹھ گیا بلکہ وہ ہر انسان کے ہر عمل کی خبر رکھتا ہے۔ اس دنیا کو اس نے انسانوں کا امتحان لینے کے لیے پیدا کیا ہے، اس کے خاتمے کے بعد وہ اپنا دربار لگائے گا اور وہ یومِ حساب ہوگا جب ہر انسان کے اعمال کے مطابق اس کی جزا اور سزا کا فیصلہ ہوگا"۔

ظاہر ہے کہ مجھ جیسا عقل اور شعور رکھنے والا انسان ایسی باتیں کرنے والے کی جانب ضرور متوّجہ ہوگااوراس کی بات ماننے یا نہ ماننے سے پہلے دیکھے گا کہ چالیس سال تک اس شخص نے کبھی معمولی سا بھی جھوٹ نہیں بولا، اب اگر اس کی بات غلط ہے تو اسے اتنا بڑا جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت پیش آئی ہے؟ اس کا اصل مقصدکیا ہے؟ وہ ایک انتہائی معاندانہ ماحول میں نہ صرف خود اپنے موقف پر قائم رہا بلکہ دوسروں کو بھی اپنے نظرئیے کا قائل کرنے کی کوشش کرتا رہا۔ ایسا کرنا خونخوار بھیڑیوں کے منہ میں ہاتھ دینے کے مترادف تھا، مگر وہ ایسا کر گزرا۔ اس پر ظلم اور جبر کے پہاڑ توڑے گئے مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا۔ اسے کہاگیا کہ وہ ایسی باتیں کہنا چھوڑدے، اگر وہ اپنے نظرئیے کا پرچار نہ کرے تو پورے عرب کی سرداری اور سب سے خوبصورت عورت اسے سونپ دی جائے گی۔

یہ اس زمانے اور حالات کے مطابق سب سے دلکش آفرز تھیں مگر اس نے ہر پیشکش کو ٹھکرادیااور اس کے پائے استقامت میں معمولی سی بھی لرزش پیدا نہ ہوئی۔ وہ تکالیف سہتا رہا مگر اپنے موقف پر قائم رہا۔ اب ایک باشعور شخص یہ دیکھے گا کہ اس کا مفاد یا motive کیا ہے؟ میں قانون کا طالب علم ہوں جس میں کوئی چیز ثابت کرنے کے لیے conduct اور motive بنیادی اہمیّت رکھتے ہیں۔ اگر اس کا کوئی دنیاوی مفاد ہوتا تو وہ اتنی دلکش آفرز قبول کرلیتا، مگر اس نے تمام پیشکشیں........

© Daily Urdu