Anne Carson Ko Adab Ka Nobel Inaam Mil Gaya, Urdu Ko Kab Milay Ga?
این کارسن کو ادب کا نوبیل انعام مل گیا، اردو کو کب ملے گا؟
ادب کے نوبیل انعام کا اعلان ہوگیا۔ کینیڈیائی شاعرہ این کارسن کو انعام مل گیا۔ اس پر رنگارنگ تبصرے ہو رہے ہیں تو ہم نے سوچا کہ ہم نے تو این کارسن کو پڑھا نہیں، تو کیوں نہ ان کی بجائے اپنی ہی ایک پرانی تحریر کا سرقہ کر لیا جائے۔
اب تک کل 122 ادیبوں کو نوبیل انعام دیا جا چکا ہے (18 عورتیں، امن کے بعد سب سے زیادہ)۔ اس میں 29 انعام انگریزی کو، 16 فرانسیسی کو، 14 ہی جرمن کو، 11 انعام ہسپانوی کو مل چکے ہیں۔ یہ زبانیں تو چلیں ایک لحاظ سے بڑی زبانیں کہلائی جا سکتی ہیں کہ یہ اقوامِ متحدہ کی سرکاری زبانوں میں شامل ہیں، لیکن سویڈش کو بھی سات انعام مل چکے ہیں جس کے بولنے والے صرف ایک کروڑ ہیں۔ اکیلا سکینڈے نیویا پورے 14 انعام لے اڑا ہے، حالانکہ اس خطے کی کل آبادی ملا جلا کر صرف ڈھائی کروڑ کے لگ بھگ بنتی ہے، یعنی ہمارے کے پی کے سے تقریباً آدھی۔
ان گنتی کی زبانوں سے الگ ہٹ جائیں تو دنیا کی سینکڑوں بڑی، ثروت مند اور متمول زبانوں کو صرف سات انعام ملے ہیں: دو چینی، دو جاپانی، ایک ایک عربی، عبرانی اور ترکی۔ آج تک فارسی، ہندی، تمل، انڈونیشیائی، ملائی وغیرہ کو نوبیل انعام نہیں مل سکا۔ پورے براعظم ایشیا کی زبانوں کو صرف چھ نوبیل انعام مل سکے ہیں۔
اس سے پہلے کہ کسی کے ذہن میں ٹیگور کا خیال آئے تو وہ خیال دل سے نکال دیں۔ ٹیگور کو بنگالی پر نہیں بلکہ انگریزی شاعری پر نوبیل ملا تھا۔ نوبیل کمیٹی نے ٹیگور کی شاعری کے بارے میں لکھا:
profoundly sensitive, fresh and beautiful verse, by which, with consummate skill, he has made his poetic thought, expressed in his own English words, a part of the literature of the West.
دوسرا پہلو ہے ترجمے کا، جس کا اندازہ ٹیگور کی مثال سے ہوتا ہے۔ اس نقطۂ نگاہ سے دیکھیے تو پتہ چلتا ہے کہ انگریزی میں ترجمہ ہونا بہت ضروری ہے۔ اورحان پامک کا مترجم گوکنار ہے، جس کے ترجمے کے بارے میں جان آپ........
