Israeli Parlimani Intikhabat Se Kuch Na Badlega
اسرائیلی پارلیمانی انتخابات سے کچھ نہ بدلے گا
کیا آپ کو یہ خوش گمانی ہے کہ آج (ستائیس اکتوبر) اسرائیل میں جو پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں ان میں بنجمن نیتن یاہو ہار جاتے ہیں تو پالیسیوں میں کوئی فرق پڑے گا؟ بس اتنا فرق پڑے گا کہ ایک کی جگہ دوسرا نیتن یاہو لے لے گا۔ تو پھر اصلی والا کیا برا ہے۔ صدر ٹرمپ نے کھل کے نیتن یاہو کی حمائیت کا اعلان کرتے ہوئے کہا ہے کہ ابھی ہم دونوں کے لیے ایران سے نپٹنے کا کام ادھورا ہے۔
آج متناسب نمائندگی کے نظام کے تحت کنیسٹ کی ایک سو بیس نشستوں کی پولنگ میں دراصل دو انتہاپسند انتخابی اتحاد حصہ لے رہے ہیں۔ ایک اتحاد نیتن یاہو کو کرپٹ سمجھتا ہے دوسرا نہیں سمجھتا۔ ماضی کی لیپاپوتی کے برعکس آج کوئی بھی اسرائیلی دایاں یا بایاں ایک آزاد و خود مختار فلسطینی ریاست نہیں چاہتا۔ اکثریت ان کا وجود مٹانا چاہتی ہے اور ایک دو کا خیال ہے کہ فلسطینیوں کو بطور نیم انسان زندہ رہنے دیا جائے۔
گزشتہ ماہ حزبِ اختلاف کے پانچ کلیدی رہنماؤں نے اعلان کیا کہ باہم کیچڑ اچھالنے کے ان کا ہدف صرف نیتن یاہو ہے۔ وزارتِ عظمیٰ کے یہ امیدوار یائر لیپڈ کے گھر پر جمع ہوئے۔ ان میں بیچاد پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیرِ اعظم نفتالی بینیٹ، یاشر پارٹی کے لیڈر اور سابق آرمی چیف گادی آئزنکوٹ، ڈیموکریٹک پارٹی کے لیڈر یائر گولان اور یسرائیلی بیتنو (اسرائیل ہمارا گھر ہے) کے لیڈر ایوگڈور لبرمین شامل تھے۔
پانچوں نے عہد کیا کہ وہ نیتن یاہو کو شکست دے کر باہمی نظریاتی فرق کے باوجود ایک ایسی " ذمے دار، فعال صیہونی حکومت تشکیل دیں گے جو قومی مقاصد کو شکست و ریخت والی پالیسیوں سے نکال کر مشترکہ اہداف حاصل کر سکے "۔ مگر ان میں سے کوئی ایک بھی نہیں سمجھتا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائی نسل کشی ہے یا وہاں کوئی جنگی جرائم ہوئے ہیں۔ انھیں لبنان اور شام میں اسرائیلی........
