Indian Film Industry Kese Badal Rahi Hai
انڈین فلم انڈسٹری کیسے بدل رہی ہے
پدم بھوشن، گولڈن گلوب، گرامی ایوارڈز اور آسکر انعام یافتہ موسیقار اے آر رحمان سے کون واقف نہیں۔ انھوں نے ہندی اور غیر ہندی فلموں میں شاندار موسیقی دی، کامیاب ترین بین الاقوامی کنسرٹس کیے، آزادی کی گولڈن جوبلی پر وندے ماترم کی ایسی نئی دھن تخلیق کی جو اب بھارت کا غیر رسمی قومی ترانہ ہے۔ رحمان نے چند ہفتے پہلے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کو انٹرویو دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ گذشتہ آٹھ برس سے انھیں بالی وڈ میں رفتہ رفتہ نظرانداز کیا جا رہا ہے۔ اب زیادہ تر فیصلے غیر تخلیقی لوگوں کے ہاتھ میں ہیں اور ممکن ہے کہ کام ملنے میں کمی کا سبب مذہبی تعصب بھی ہو۔
اس انٹرویو کے بعد فرقہ پرست ہندو تنظیمیں اے آر رحمان کے پیچھے پڑ گئیں اور وشوا ہندو پریشد (وی ایچ پی) نے ان سے " بھارت کی توہین " پر معافی مانگنے کا مطالبہ کیا۔ سوشل میڈیا رحمان مخالف پوسٹوں سے بھر گیا۔ رحمان کو ایک وضاحتی پوسٹ لگانا پڑ گئی۔ مگر یہ کوئی نئی بات نہیں۔
بالی وڈ میں ایک عرصے تک پاکستانیوں کو بطور ولن دکھایا جاتا رہا۔ چند برس سے بھارتی مسلمانوں نے ولنز کی جگہ لے لی ہے۔ وہ زمانے لد گئے جب بالی وڈ میں ہر شخص ہندو مسلمان کی بنیاد پر نہیں بلکہ اپنے کام اور ہنر کے سبب پہچانا جاتا تھا۔ آج آپ اپنے فلمی کیریر میں کیسا بھی دیش بھگت کردار نبھا لیں۔ کوئی سا بھی ملی نغمہ کمپوز کر لیں۔ آپ کا تعلق اکثریتی ہجوم سے نہیں تو آپ کے ایک ایک جملے اور حرکت کو خوردبین تلے رکھا جائے گا اور جہاں بھی قدم ذرا لڑکھڑائے،........
