menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Ai Ki Pyas Kon Bujhaye?

24 0
22.08.2026

اے آئی کی پیاس کون بجھائے؟

ہم سب جانتے ہیں کہ اکہتر فیصد کرہِ ارض پانی پر مشتمل ہے۔ مگر اس میں سے صرف ڈھائی فیصد پانی میٹھا ہے۔ اس میٹھے پانی میں سے بھی ایک اعشاریہ چوہتر فیصد پانی گلیشیرز اور قطبینِ شمالی و جنوبی کی برفیلی شکل میں ہے۔ ایک اعشاریہ انہتر فیصد زیرزمین پایا جاتا ہے اور محض صفر اعشاریہ صفر دو فی صد میٹھا پانی دریاؤں، جھیلوں، دلدلوں اور بادلوں کی شکل میں دستیاب ہے۔ پانی اس قدر قلیل اور دنیا کی آبادی اس وقت آٹھ ارب سے زائد۔ اس کے باوجود "اشرف المخلوقات" جتنا پانی استعمال کر رہی ہے کم و بیش اتنی ہی مقدار میں ضایع بھی کر رہی ہے یا اپنے ہی ہم نسلوں کو پیاس کا یرغمال بنا کے ذخیرہ کر رہی ہے۔

اس پس منظر کو ذہن میں رکھتے ہوئے اب یو این یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار واٹر انوائرنمنٹ اینڈ ہیلتھ کی تازہ رپورٹ پر دھیان دیجیے۔ اس کے مطابق دو ہزار تیس تک اے آئی ڈیٹا سینٹرز ایک اعشاریہ تین ارب انسانوں کی سال بھر کی بنیادی ضروریات کے لیے کافی دو اعشاریہ تین ٹریلین لیٹر پانی خود کو ٹھنڈا رکھنے کے لیے استعمال کرلیں گے۔

ان ڈیٹا سینٹرز کے لیے دو ہزار تیس تک بجلی کی کھپت نو سو پینتالیس ٹیرا واٹ ہاور سالانہ تک پہنچ جائے گی یعنی کل عالمی برقی پیداوار کا تین فیصد۔ آسان الفاظ میں یہ ڈیٹا سینٹرز پاکستان، بنگلہ دیش اور نائجیریا کی مجموعی سالانہ برقی کھپت سے بھی تین گنا زائد بجلی استعمال کر رہے ہوں گے۔ گذشتہ برس اے آئی ڈیٹا سینٹرز نے مجموعی طور پر چار سو اڑتالیس ٹیرا واٹ بجلی استعمال کی۔ اگر ان ڈیٹا سینٹرز کو ایک ریاست تصور کر لیا جائے تو اے آئی اس وقت بجلی........

© Daily Urdu