menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Degreeon Ke Sarab Aur Rozgar Ka Sehraa

24 0
24.10.2026

ڈگریوں کے سراب اور روزگار کا صحرا

کسی بھی معاشرے میں نوجوان اس کا سب سے قیمتی سرمایہ اور روشن مستقبل کا استعارہ ہوتے ہیں۔ ایک عام خاندان اپنے بچے کو اس امید کے ساتھ سکول بھیجتا ہے کہ ایک دن یہ تعلیم اس کے شعور کو جلا بخشے گی اور اس کے محفوظ مستقبل کی ضامن بنے گی۔ والدین اپنی عمر بھر کی جمع پونجی، اپنی خواہشات اور بسا اوقات اپنے پیٹ پر پتھر باندھ کر بچوں کی فیسیں ادا کرتے ہیں تاکہ کل کو ان کا لختِ جگر معاشرے میں ایک معزز مقام حاصل کر سکے۔ لیکن جب یہی نوجوان ہاتھوں میں ڈگریوں کے پلندے تھامے، آنکھوں میں خواب سجائے، تعلیمی اداروں کی چمکدار راہداریوں سے نکل کر عملی زندگی کے تپتے ہوئے صحرا میں قدم رکھتا ہے، تو اسے معلوم ہوتا ہے کہ خوابوں اور حقیقت کے درمیان ایک گہری خلیج حائل ہے۔ وہ نظام کی اس کمزور کڑی کا شکار ہو جاتا ہے جو تعلیم کو روزگار سے جوڑنے میں بری طرح ناکام ہو چکی ہے۔

ہمارے روایتی تعلیمی ڈھانچے کو اگر گہرائی سے دیکھا جائے تو یہ حقیقت کھل کر سامنے آتی ہے کہ ہم آج بھی بیسویں صدی کے فرسودہ نصاب اور رٹہ سسٹم کے سہارے اکیسویں صدی کے چیلنجز کا مقابلہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ہمارے ہاں ڈگری کو ایک کاغذ کا ٹکڑا تو بنا دیا گیا ہے، لیکن اس کاغذ کے پیچھے چھپی مہارت (Skill) کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔ جامعات سے ہر سال لاکھوں کی تعداد میں گریجویٹس فارغ........

© Daily Urdu