menu_open Columnists
We use cookies to provide some features and experiences in QOSHE

More information  .  Close

Mehangai Ka Tufan Ya Hukumrano Ka Imtihan

19 0
19.07.2026

مہنگائی کا طوفان یا حکمرانوں کا امتحان

پچھلے ہفتے ایک پروگرام میں شرکت کے لئے ہم ایبٹ آبادسے ٹانڈہ بجنہ گئے۔ واپسی پرراستے میں ایک جگہ نمازکیلئے رکے۔ یہ مانسہرہ اوربٹگرام کے درمیان کوئی علاقہ تھاجوبفہ سے کچھ ہی دورتھا۔ امام صاحب نے جونہی سلام پھیراایک اسی سالہ بزرگ مصلے پرکھڑے ہوئے۔ اس کے چہرے سے نورانیت ٹپک رہی تھی۔ آہوں اورسسکیوں میں نمازیوں سے گویاہوئے۔ میرے گھرمیں فاقے ہے۔ اللہ کی قسم بچوں نے دودن سے کچھ نہیں کھایاہے۔

میں بھیک مانگنے نہیں اپنے بچوں کے لئے راشن مانگنے آیاہوں۔ اللہ کے گھرمیں ایک نورانی چہرے والے بزرگ کی یہ فریادسن کرہماری آنکھیں نم ہوگئیں۔ باہربازاروں، مارکیٹوں اورشاہراہوں پربھیک مانگنے کے لئے ہرکس وناکس سے لپکنے والوں میں اکثریت کوروایتی اورخاندانی بھکاری سمجھ کرہم نظراندازکردیتے ہیں اوران میں اکثرہوتے بھی پیشہ وربھکاری ہیں لیکن اللہ کے گھرمیں اسی سال کی عمراورنورانی چہرہ لئے کوئی بزرگ نہ توپیشہ وربھکاری ہوسکتاہے اورنہ ہی کوئی جھوٹا۔

موجودہ حالات نے اس بزرگ جیسے ہزاروں نہیں لاکھوں لوگوں اورخاندانوں کاجیناحرام اورنظام درہم برہم کردیاہے۔ معقول آمدن اورماہانہ لاکھوں کی تنخواہیں اورمراعات لینے والوں کوتوہمارے حکمرانوں کی طرح حالات نارمل نظرآرہے ہیں لیکن حقیقت میں ایسانہیں۔ مہنگائی، غربت، بیروزگاری اوربھوک وافلاس کی جن راہوں پرغریبوں کاروزانہ مارچ ہوتاہے ان راہوں پرامیرزادوں اورحکمرانوں کاکبھی گزربھی نہیں ہوا۔ ایسے میں غریبوں کے........

© Daily Urdu